تین بچوں کی ماں، گولڈ میڈلسٹ اور کلینیکل سائیکالوجسٹ: زینب صدیق کی عزم و حوصلے سے بھرپور داستان

اسلام آباداوورسیزپاکستانتازہ ترینتعلیمخصوصی رپورٹسدنیاشخصیاتمضامین و کالم

پاسبان رپورٹ

شادی، گھریلو ذمہ داریوں اور تین بچوں کی پرورش کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا سفر جاری رکھنے والی زینب صدیق نے ثابت کیا کہ مضبوط ارادے، خاندانی تعاون اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس سائیکالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد سے ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی مکمل کرنے والی زینب صدیق گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں۔ ان کا اگلا خواب پاکستان کی خواتین کی ذہنی و نفسیاتی صحت کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔

کچھ کامیابیاں صرف اسناد اور ڈگریوں تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے اندر جدوجہد، قربانی، صبر، مستقل مزاجی اور امید کی ایسی داستانیں سموئے ہوتی ہیں جو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ زینب صدیق کی تعلیمی زندگی بھی ایک ایسی ہی متاثر کن داستان ہے، جس میں ایک طالبہ، بیوی، ماں اور اب کلینیکل سائیکالوجی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کا سفر نمایاں ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے زینب صدیق نے نسٹ اسلام آباد سے ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی مکمل کر لیا ہے۔ اس کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ منزل تین بچوں کی پرورش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ان کے سب سے چھوٹے بیٹے محمد ابراہیم کی پیدائش ہوئی، اور انہیں ننھے ابراہیم کو ساتھ لے کر یونیورسٹی جانا، کلاسز میں شرکت کرنا، انٹرن شپ مکمل کرنا اور تھیسس کے مراحل طے کرنا پڑے۔

یہ محض ایک تعلیمی کامیابی نہیں، بلکہ اس عزم کی مثال ہے کہ زندگی کی ذمہ داریاں انسان کے خوابوں کا خاتمہ نہیں کرتیں، بشرطیکہ اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ، سازگار ماحول اور اپنے مقصد پر یقین حاصل ہو۔

ایک خواب جو شادی کے بعد بھی زندہ رہا

زینب صدیق کا تعلق اسلام آباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ ان کے والدین درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کی والدہ فرخ جبین ایک معلمہ ہیں اور زینب کی زندگی میں ان کا کردار ہمیشہ ایک رول ماڈل کا رہا ہے۔

2013ء میں میٹرک کے امتحان سے فارغ ہونے کے بعد، نتیجہ آنے سے پہلے ہی ان کی شادی صحافی عزیزالرحمٰن سے ہو گئی اور وہ کھاریاں کے قریب واقع گاؤں گلیانہ آ گئیں۔ شادی کے وقت ان کے دل میں ایک خواب موجود تھا: انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنی تھی۔

زینب نے فیصلہ کر لیا تھا کہ شادی ان کی تعلیمی منزل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ شعور، خود اعتمادی اور زندگی کو بہتر انداز میں سمجھنے کا ذریعہ ہے۔

ان کے اس عزم کو عملی شکل دینے کے لیے خاندان کا تعاون ضروری تھا۔ ان کے شوہر عزیزالرحمٰن، والدہ فرخ جبین اور سسر اسلم بھٹی نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کے سسر ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تھے اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ مقامی کالج کی پرنسپل طیبہ حمید اور اساتذہ نے بھی ان کی رہنمائی کی۔

دو بچوں کی ماں اور کالج کی طالبہ

2016ء میں زینب نے باقاعدہ طور پر فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا۔ اس وقت ان کی بیٹی امامہ ڈھائی برس کی تھی اور بیٹا محمد احمد صرف چھ ماہ کا تھا۔

ایک طرف ننھے بچوں کی دیکھ بھال، دوسری طرف گھر کی ذمہ داریاں اور تیسری طرف کالج کی تعلیم؛ ان کے لیے روزمرہ زندگی ایک مسلسل امتحان بن گئی۔ انہیں صبح سویرے گھر والوں کے لیے ناشتہ تیار کرنا، گھریلو کام مکمل کرنا اور پھر کالج پہنچنا ہوتا تھا۔ پڑھائی کے لیے وقت کبھی کالج میں ملتا اور کبھی رات کو گھر کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد۔

ان مشکلات کے باوجود انہوں نے فرسٹ ایئر کے امتحان میں اپنے کالج میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ سیکنڈ ایئر کے دوران ان کے سسر بیمار ہو گئے، جس سے ان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں۔ باقاعدگی سے کالج جانا مشکل ہوا تو اساتذہ نے انہیں گھر پر نوٹس فراہم کیے اور ان کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کی۔

یوں انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ کامیابی صرف سہولتوں کے ساتھ نہیں ملتی؛ بعض اوقات اسے حاصل کرنے کے لیے تھکن، وقت کی کمی اور مایوسی کے احساس سے بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

بی اے میں اول پوزیشن: ایک خواب کی تعبیر

زینب کی زندگی کا ایک یادگار مرحلہ یونیورسٹی آف گجرات سے بی اے کی تعلیم تھا۔ اس دوران ان کے سسر انتقال کر گئے، جس سے خاندان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں۔ تاہم ان کے شوہر عزیزالرحمٰن نے بچوں کی دیکھ بھال میں عملی طور پر حصہ لیا تاکہ زینب اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرنا، انہیں سنبھالنا اور زینب کو کالج چھوڑنے اور واپس لانے میں مدد دینا اس خاندانی تعاون کا حصہ تھا۔ یہ اس حقیقت کی مثال ہے کہ تعلیم یافتہ خاندان کی تشکیل میں شریکِ حیات کی حوصلہ افزائی کتنی اہم ہو سکتی ہے۔

زینب کے دل میں ایک بڑا خواب تھا کہ وہ بی اے کے امتحان میں یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کریں۔ جب ایک روز کالج کی پرنسپل نے طالبات سے پوچھا کہ کون یونیورسٹی میں اول آنا چاہتی ہے تو زینب نے ہاتھ بلند کر دیا۔ بعض ہم جماعتوں کی حیرت اور تمسخر کے باوجود انہوں نے اپنا ہدف نہیں بدلا۔

2020ء میں ہونے والے بی اے کے امتحانات وبا اور لاک ڈاؤن کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے۔ بالآخر 4 مئی 2021ء کو نتیجہ سامنے آیا اور زینب صدیق نے 800 میں سے 605 نمبر حاصل کرتے ہوئے یونیورسٹی آف گجرات میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

یہ کامیابی ان کے لیے ایک جذباتی لمحہ تھی۔ انہیں اپنی والدہ کی محنت، اپنے سسر کی حوصلہ افزائی اور اپنے شوہر کے تعاون کی یاد آئی۔ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہو گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب برسوں کی محنت اور مشکلات نے ایک قابلِ فخر کامیابی کی صورت اختیار کر لی۔

قائداعظم یونیورسٹی سے نسٹ تک: نفسیات کے شعبے میں آگے بڑھنے کا عزم

زینب صدیق کو ابتدا ہی سے نفسیات کے مضمون سے خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ ان کی تعلیمی زندگی میں یہ دلچسپی محض ایک مضمون کے انتخاب تک محدود نہیں رہی، بلکہ وقت کے ساتھ ایک واضح مقصد میں تبدیل ہوتی گئی۔

انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے بی ایس سائیکالوجی مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی علمی استعداد کو مزید نکھارنے اور نفسیات کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا سفر جاری رکھا، جس کی تکمیل نسٹ، اسلام آباد سے ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی کی ڈگری کے حصول پر ہوئی۔

یہ سفر اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ زینب نے تعلیم کے ہر مرحلے پر خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ توازن قائم رکھنے کی کوشش کی۔ تین بچوں کی پرورش، گھریلو مصروفیات اور تعلیمی تقاضوں کے درمیان انہوں نے اپنے مقصد سے وابستگی برقرار رکھی۔

ان کی حالیہ کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیم کا سفر عمر، ازدواجی حیثیت یا گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے لازماً ختم نہیں ہو جاتا۔ مناسب تعاون، مستقل مزاجی اور اپنے مقصد پر یقین انسان کے لیے آگے بڑھنے کے نئے راستے کھول سکتے ہیں۔

ماں کی گود سے یونیورسٹی تک

زینب صدیق کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے کلینیکل سائیکالوجی میں اعلیٰ تعلیم جاری رکھی اور دورانِ تعلیم ان کے تیسرے بچے، محمد ابراہیم، کی پیدائش ہوئی۔

ایک طرف ننھے بچے کی ضروریات، دوسری طرف دو بڑے بچوں کی پرورش اور گھر کی ذمہ داریاں؛ ان سب کے ساتھ یونیورسٹی کی کلاسز، انٹرن شپ اور تحقیقی تھیسس مکمل کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن زینب نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور بالآخر نسٹ اسلام آباد سے ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی مکمل کر لیا۔

ان کی کہانی ان خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے جو شادی، بچوں یا گھریلو مصروفیات کے باعث اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ خوابوں سے دستبردار ہونے کا سوچتی ہیں۔ زینب کا سفر بتاتا ہے کہ ہر خاتون کے حالات مختلف ہوتے ہیں، مگر مناسب تعاون، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کے ذریعے آگے بڑھنے کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

تعلیم، خاندان اور شریکِ حیات کا تعاون

زینب صدیق کے شوہر عزیزالرحمٰن کے مطابق، وہ اپنی اہلیہ کو ہمیشہ مزید تعلیم حاصل کرتے دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا یقین ہے کہ اگر خواتین میں صلاحیت موجود ہو تو انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے چاہییں اور گھریلو ذمہ داریوں کو صرف خواتین کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے خاندان کے تمام افراد کو ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔

بچوں کی دیکھ بھال، انہیں اسکول لے جانا، دودھ تیار کرنا، پیمپر تبدیل کرنا اور گھر کے کاموں میں حصہ لینا ان کے لیے کوئی معیوب بات نہیں تھی۔ ان کے نزدیک گھر کی ذمہ داریوں میں تعاون ایک صحت مند خاندانی زندگی کا حصہ ہے۔

زینب کی تعلیمی کامیابی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ عورت کی ترقی اور خاندان کی خوش حالی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ جب شریکِ حیات اعتماد، تعاون اور حوصلہ افزائی کا رویہ اپنائے تو خاتون اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر بروئے کار لا سکتی ہے۔

نفسیات کا انتخاب کیوں؟

زینب صدیق کو طالب علمی کے زمانے سے ہی نفسیات کے مضمون سے خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ ان کی تعلیمی ترجیحات اور اعلیٰ تعلیم کا انتخاب اسی دلچسپی کا تسلسل ہیں۔

ان کی دلچسپی کا ایک اہم سبب خواتین کے ذہنی اور جذباتی مسائل ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین ذہنی دباؤ، گھریلو مشکلات، جذباتی تنہائی، فرسٹریشن اور عدم برداشت جیسے مسائل کا سامنا کرتی ہیں، مگر انہیں اکثر اپنی بات کہنے، سنے جانے اور مناسب رہنمائی حاصل کرنے کے مواقع نہیں ملتے۔

ان کا خواب ہے کہ وہ اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسی خواتین کی مدد کریں جو زندگی کے مختلف دباؤ اور نفسیاتی مشکلات سے گزر رہی ہیں۔

اب اگلا ہدف: پاکستان کی خواتین کی ذہنی صحت

ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی کی تکمیل زینب صدیق کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ خواتین کی ذہنی و نفسیاتی صحت کے فروغ کے لیے قومی سطح پر اپنا کردار ادا کریں۔

ان کے مستقبل کے مشن میں چند اہم پہلو شامل ہیں:

  • خواتین میں ذہنی دباؤ اور فرسٹریشن سے نمٹنے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا۔
  • غصے اور جذبات کو صحت مند انداز میں سمجھنے اور سنبھالنے کے طریقوں کو فروغ دینا۔
  • عدم برداشت کے بجائے مکالمے، باہمی احترام اور مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔
  • خاندانوں میں ذہنی صحت کے موضوع پر گفتگو کو معمول بنانا اور نفسیاتی مدد لینے سے متعلق غلط فہمیوں کو کم کرنا۔
  • خواتین کو اپنی صلاحیتیں پہچاننے، خود اعتمادی بڑھانے اور زندگی کے مسائل کا مثبت انداز میں سامنا کرنے میں مدد دینا۔

اس وژن کی کامیابی کے لیے پیشہ ورانہ تجربہ، متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون، عوامی آگاہی کے پروگرام اور ضرورت مند خواتین تک مناسب نفسیاتی خدمات کی رسائی اہم ہوں گے۔ زینب کی تعلیمی بنیاد اور ذاتی تجربہ اس سمت میں ایک مثبت نقطۂ آغاز فراہم کرتے ہیں۔

ان کا یقین ہے کہ جب خواتین کو اپنے مسائل سمجھنے، جذبات سنبھالنے اور مناسب مدد حاصل کرنے کے مواقع ملتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان اور معاشرے تک پھیل سکتے ہیں۔

خواتین کے نام ایک پیغام

زینب صدیق کی زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہیے اور اپنے حالات کے مطابق آگے بڑھنے کے راستے تلاش کرتے رہنا چاہیے۔ ہر خاتون کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن تعلیم، فنی تربیت، ہنر اور پیشہ ورانہ مہارتیں زندگی میں نئے امکانات پیدا کر سکتی ہیں۔

وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ خواتین کی ترقی میں خاندان اور معاشرے کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ والدین، شوہر، اساتذہ اور دیگر اہلِ خانہ اگر خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تو بہت سی ایسی کامیابیاں ممکن ہو سکتی ہیں جو بظاہر مشکل دکھائی دیتی ہیں۔

ایک کامیابی، کئی خواب

زینب صدیق کی داستان میٹرک سے شروع ہو کر کالج، بی اے میں یونیورسٹی کی پہلی پوزیشن، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس سائیکالوجی اور نسٹ سے ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی کی تکمیل تک پہنچتی ہے۔ اس سفر میں بچوں کی پرورش، گھریلو ذمہ داریوں، ذاتی مشکلات اور معاشرتی رویوں کے باوجود آگے بڑھنے کا عزم نمایاں ہے۔

ان کی کامیابی یہ پیغام دیتی ہے کہ خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے صرف خواہش کافی نہیں؛ محنت، مستقل مزاجی، سازگار ماحول اور دوسروں کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہیں۔

زینب صدیق اب اپنی تعلیمی کامیابی کو خواتین کی ذہنی صحت اور معاشرتی بہتری کے لیے ایک عملی مشن میں بدلنا چاہتی ہیں۔ اگر ان کی صلاحیتیں مناسب مواقع، ادارہ جاتی تعاون اور پیشہ ورانہ تجربے کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں تو وہ اس شعبے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ان کی کہانی ان تمام خواتین کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنے خوابوں اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ ان خاندانوں کے لیے بھی ایک مثال ہے جو اپنی بیٹیوں، بہنوں اور شریکِ حیات کی صلاحیتوں کو پہچان کر ان کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

زینب صدیق کا سفر جاری ہے۔ ایک ڈگری مکمل ہوئی ہے، مگر علم، خدمت اور خواتین کی ذہنی و جذباتی صحت کے لیے کام کرنے کا خواب ابھی آگے بڑھنا ہے۔

اللہ تعالیٰ انہیں اپنے علم کو انسانیت کی خدمت میں استعمال کرنے، خواتین کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے