پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ: خیبر پختونخوا میں پلاسٹک سرجری کے فروغ، طبی تحقیق اور نئی نسل کی تربیت میں نمایاں کردار
پشاور (پاسبان نیوز) — نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر پشاور سے وابستہ ممتاز پلاسٹک و ری کنسٹرکٹیو سرجن پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے وسیع طبی تجربے، پیشہ ورانہ مہارت اور تدریسی خدمات کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں پلاسٹک سرجری کے شعبے کے قیام اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی طویل پیشہ ورانہ زندگی کو پیچیدہ جراحی مسائل کے علاج، مریضوں کی بحالی، طبی تحقیق اور نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ کا شعبۂ تخصص پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹیو سرجری ہے، جس کا مقصد پیدائشی نقائص، حادثات، جلنے کے واقعات، کینسر اور اس کے آپریشنز یا عمر رسیدگی کے نتیجے میں جسمانی ساخت میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی اصلاح اور بحالی ہے۔ ان کی طبی خدمات میں نہ صرف جسمانی ساخت کی بہتری بلکہ مریضوں کی عملی صلاحیتوں کی بحالی اور معیارِ زندگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
وہ کلفٹ لپ اور کلفٹ پیلیٹ، یعنی پیدائشی طور پر ہونٹ اور تالو میں شگاف کی جراحی اصلاح کے شعبے میں بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ پیدائشی نقائص بچوں کی خوراک، گفتگو اور سماجی زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے ان کا بروقت اور مناسب علاج خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ کو ہائپوسپیڈیاس کی جراحی میں بھی خصوصی مہارت حاصل ہے۔ یہ پیشاب کی نالی کا ایک پیدائشی نقص ہے جس کی اصلاح کے لیے تجربہ کار سرجن اور علاج کے بعد باقاعدہ طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کی دیگر اہم مہارتوں میں پیچیدہ زخموں کی نگہداشت، ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے زخموں کا علاج، جلنے کے واقعات کے بعد جراحی بحالی اور جسمانی ساخت کی اصلاح شامل ہیں۔ وہ دائمی زخموں کے علاج میں بھی کام کرتے ہیں، خصوصاً ایسے زخموں میں جو طویل عرصے تک مندمل نہ ہوں۔ ان کے زیرِ تخصص شعبوں میں ناک کی جراحی، پیٹ کی ساخت کی اصلاح، لائپوسکشن اور دیگر جمالیاتی طریقۂ علاج بھی شامل ہیں۔ تناسلی اعضاء کی تعمیرِ نو، اندام نہانی کی بحالی اور صنفی شناخت سے متعلق مخصوص جراحی طریقۂ علاج میں بھی انہیں تجربہ حاصل ہے، جہاں طبی ضروریات کے مطابق متعلقہ ماہرین کی معاونت اہم ہوتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ نے 1983ء میں خیبر میڈیکل کالج سے گولڈ میڈل کے ساتھ گریجویشن مکمل کی۔ بعد ازاں 1989ء میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے فیلوشپ (FCPS) حاصل کی، جبکہ 1990ء میں رائل کالج آف سرجنز، ایڈنبرا سے FRCS کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی بنیادی پیشہ ورانہ تربیت برطانیہ میں ہوئی، جبکہ امریکہ اور کینیڈا میں بھی انہیں جدید طبی طریقوں اور جراحی مہارتوں سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ بیرونِ ملک حاصل کیے گئے اس تجربے نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید وسعت دی اور انہیں پاکستان میں جدید پلاسٹک سرجری کے فروغ کے لیے کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ان کی خدمات کا ایک اہم پہلو طبی تعلیم اور تحقیق بھی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ نارتھ ویسٹ اسکول آف میڈیسن میں میڈیکل طلبہ کی تدریس اور نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں مستقبل کے پلاسٹک سرجنز کی تربیت میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ پلاسٹک سرجری کے امتحانات میں بطور ممتحن خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کے تحقیقی مضامین قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے کام کا حوالہ طبی نصابی کتب میں بھی دیا گیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ کو مختلف قومی اور بین الاقوامی طبی کانفرنسوں میں بطور مقرر مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ وہ پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز (PAPS)، امریکن سوسائٹی آف پلاسٹک سرجنز (ASPS)، انٹرنیشنل سوسائٹی فار برن انجریز اور ہائپوسپیڈیاس سے متعلق بین الاقوامی پیشہ ورانہ تنظیموں سے وابستگی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے شعبۂ طبی تعلیم سے بھی منسلک ہیں۔ یہ وابستگیاں ان کی طبی تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تعاون میں دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا ایک نمایاں پہلو مریضوں کی طویل مدتی نگہداشت ہے۔ پیچیدہ جراحی کے معاملات میں علاج کے بعد فالو اَپ، نتائج کی نگرانی اور مریض کی بحالی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ مریضوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کی منصوبہ بندی اور باریک بینی سے طبی نگہداشت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا تجربہ اور تدریسی سرگرمیاں نوجوان ڈاکٹروں کو پیچیدہ جراحی مسائل سمجھنے اور مریضوں کے علاج میں ذمہ دارانہ رویہ اپنانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹیو سرجری محض ظاہری شکل میں تبدیلی کا نام نہیں بلکہ یہ ان افراد کی زندگیوں میں بہتری لانے کا ذریعہ بھی ہے جو پیدائشی نقائص، حادثات، جلنے یا دیگر بیماریوں کے باعث جسمانی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ جیسے تجربہ کار معالجین کی خدمات طبی شعبے میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ان کے کام میں جراحی علاج کے ساتھ مریضوں کی بحالی، طبی تعلیم اور نئی نسل کی تربیت بھی شامل ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبیداللہ کا پیشہ ورانہ سفر طبی مہارت، مسلسل سیکھنے، تحقیق اور تدریس کے امتزاج کی مثال ہے۔ نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر پشاور میں ان کی خدمات پلاسٹک و ری کنسٹرکٹیو سرجری کے شعبے میں علاج اور تربیت کے عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ہیں۔ ان کا تجربہ نوجوان طبی ماہرین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے، جبکہ پیچیدہ جراحی مسائل کے حل اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے ان کی وابستگی انہیں اپنے شعبے کی ایک اہم شخصیت بناتی ہے۔
پاسبان نیوز صحت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے معالجین، طبی محققین اور اداروں کی کاوشوں کو اجاگر کرنے کے عزم کے ساتھ ایسی شخصیات کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے جن کی پیشہ ورانہ زندگی علاج، علم اور انسانی خدمت کے مختلف پہلوؤں سے وابستہ ہے۔
