شیر کھاریاں۔۔سبحان الدین گل بخشالوی
شیر کھاریاں۔۔
سبحان الدین گل بخشالوی
ایک ہمہ جہت شاعر، صحافی، ادیب اور اردو ادب کے
خاموش خدمت گزار
پاکستان کے ادبی و صحافتی منظرنامے میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی شناخت محض ان کی تخلیقات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کے لیے ادبی راستے ہموار کرنے، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور اپنے علاقے میں علم و ادب کی شمع روشن رکھنے میں صرف ہوتا ہے۔ سبحان الدین گل بخشالوی ایسی ہی ایک شخصیت ہیں، جنہوں نے شاعری، نثر، صحافت، ادبی تنظیم سازی، انتخاب و تدوین اور اردو زبان کے فروغ کے میدانوں میں طویل عرصے تک کام کیا۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ادبی شناخت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ادبی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کی کوشش کی۔ ان کی زندگی کا سفر خیبر پختونخوا کے ایک گاؤں سے شروع ہو کر پنجاب کے شہر کھاریاں تک پہنچتا ہے، جہاں انہوں نے اپنی ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کے ذریعے ایک مستقل شناخت قائم کی۔
گل بخشالوی کا اصل نام سبحان الدین ہے۔ وہ 30 مئی 1952ء کو ضلع مردان، خیبر پختونخوا کے گاؤں بخشالی میں پیدا ہوئے۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے، جب کہ اردو ان کی تخلیقی اور ادبی اظہار کی اہم زبان بنی۔ ان کے والد اسرار الدین مرحوم نوشہرہ میں ملازمت کرتے تھے۔ گل بخشالوی نے اپنے بچپن میں معاشی تنگ دستی اور محدود وسائل کی زندگی کو قریب سے دیکھا۔ یہی تجربات بعد کے زمانے میں ان کی تحریروں میں عام انسان کی مشکلات، غربت، محرومی اور سماجی ناہمواری کے احساس کی صورت میں بھی نمایاں ہوئے۔
انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول نوشہرہ میں آٹھویں جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں نجی طور پر میٹرک کیا۔ رسمی تعلیم کے محدود مواقع کے باوجود مطالعے، مشاہدے اور مسلسل ادبی ریاضت نے ان کی شخصیت میں علمی و تخلیقی پختگی پیدا کی۔
ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ 1976ء میں آیا، جب انہوں نے واہ فیکٹری کی ملازمت چھوڑ کر کھاریاں کا رخ کیا۔ یہاں انہوں نے اپنے برادرِ نسبتی گل محمد ساجن کے ہوٹل کے انتظامی امور سنبھالے۔ بظاہر یہ ایک کاروباری اور معاشی تبدیلی تھی، لیکن یہی شہر آگے چل کر ان کی ادبی، صحافتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔اور
میرے استاد محترم استاذ الاساتذہ جناب راجہ ریاض احمدراسخ نے ان کو ساجن ہوٹل سے اٹھا کر روزنامہ افتاب اور روزنامہ جسارت کی نمائندگی لے کر دی اور صحافی بنا دیا
1982ء میں والد صاحب کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کرنا بھی ان کی زندگی کا ایک اہم روحانی تجربہ تھا۔ ان کے ادبی مزاج میں مذہبی عقیدت اور روحانی وابستگی کا اظہار بعد کی نعتیہ شاعری اور مذہبی موضوعات پر مبنی تحریروں میں بھی نظر آتا ہے۔
گل بخشالوی کے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ 1983ء میں انہوں نے کھاریاں میں ادبی تنظیم بزمِ گل قائم کی، جو آگے چل کر قلم قافلہ کے نام سے معروف ہوئی۔ یہ محض ایک ادبی تنظیم کا قیام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے ادبی ماحول کی تشکیل کی کوشش تھی جہاں مقامی شعراء، ادیبوں اور نئے لکھنے والوں کو اظہار کا موقع مل سکے۔
ان کے ادبی سفر میں لالہ موسیٰ کے ممتاز شاعر اسحاق آشفتہ کی رہنمائی بھی اہم رہی۔ اسحاق آشفتہ نے انہیں اپنے استاد انیس لکھنوی سے متعارف کرایا اور شاعری کی اصلاح و تربیت کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
گل بخشالوی نے اپنے ابتدائی ادبی تجربات میں یہ محسوس کیا کہ ادبی دنیا میں محض تخلیقی صلاحیت ہی کافی نہیں، بلکہ اہلِ قلم کے درمیان روابط اور ادبی پلیٹ فارم کی بھی اہمیت ہے۔ اسی پس منظر میں انہوں نے شعراء کے کلام کو جمع کرنے اور ایک بڑے انتخاب کی صورت میں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا۔
ان کی ادبی تنظیم نے وقت کے ساتھ مشاعروں، ادبی نشستوں، کتابوں کی اشاعت اور رسائل کے اجرا کے ذریعے کھاریاں اور گردونواح میں ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ ان کی یہ کوشش اس اعتبار سے اہم تھی کہ چھوٹے شہروں میں ادبی سرگرمیوں کو مسلسل جاری رکھنا اکثر مالی وسائل، ادارہ جاتی سرپرستی اور قارئین کی محدود تعداد کے باعث مشکل ہوتا ہے۔
گل بخشالوی کی شاعری میں ذاتی تجربات، معاشرتی مشاہدات، وطن سے محبت، انسانی محرومیوں اور روحانی وابستگی کے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کے کلام میں زندگی کے تلخ تجربات اور امید کی روشنی ساتھ ساتھ دکھائی دیتی ہے۔
ان کے شعری مزاج کا ایک پہلو غربت اور معاشی ناہمواری کے تجربات سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے اشعار میں محرومی کا احساس محض ذاتی دکھ نہیں رہتا بلکہ عام انسان کی اجتماعی زندگی کی ترجمانی کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر:
گاؤں میں تھی بھوک لیکن تھا
سکوں شہر میں آئے تو بال و پر جلے
>مفلسی کی آگ میں گل کیا خبر
ہم سے بے چاروں کے کتنے گھر جلے
یہ اشعار دیہی زندگی کی سادگی اور شہری معاشرت کے معاشی دباؤ کے درمیان ایک معنی خیز تقابل پیش کرتے ہیں۔
ان کی شاعری کا دوسرا نمایاں پہلو وطن اور قومی احساس ہے۔ کشمیر، پاکستان اور قومی خودمختاری جیسے موضوعات پر ان کے اشعار میں جذباتی وابستگی اور فکری تشویش کا اظہار ملتا ہے۔ اسی طرح ان کی غزلوں میں محبت، ہجر، تنہائی اور انسانی احساسات کے روایتی موضوعات بھی موجود ہیں۔
نعتیہ شاعری ان کی تخلیقی شخصیت کا خصوصی حوالہ ہے۔ ان کے نعتیہ کلام میں رسول اکرم ﷺ سے محبت، روحانی عقیدت اور مدینہ منورہ سے قلبی وابستگی کا اظہار ملتا ہے۔ ان کے پہلے نعتیہ مجموعے گلزارِ محمد کے بارے میں دستیاب تحریر کے مطابق یہ کتاب 2010ء میں شائع ہوئی تھی اور اس میں نعتوں کے ساتھ چند حمدیں بھی شامل تھیں۔ اس مجموعے کی ایک خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ اس میں احمد فراز کی غزلوں کی بحور میں نعتیہ کلام پیش کیا گیا۔
گل بخشالوی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی صحافتی سرگرمیاں ہیں۔ انہوں نے کھاریاں میں مقامی صحافت اور ادبی صحافت کو فروغ دینے کے لیے مختلف اشاعتی منصوبوں پر کام کیا۔ ان کے زیرِ اہتمام ماہنامہ قلم قافلہ اور ہفت روزہ کھاریاں ٹائمز کا اجرا اسی سلسلے کی نمایاں مثالیں ہیں۔
ان اشاعتی پلیٹ فارمز کے ذریعے کھاریاں اور گردونواح کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور ادبی سرگرمیوں کو جگہ ملی۔ مقامی سطح پر ایسے اخبارات اور رسائل کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ بڑے قومی ذرائع ابلاغ کی توجہ سے محروم رہ جانے والے مسائل اور ادبی سرگرمیوں کو سامنے لاتے ہیں۔
گل بخشالوی نے بطور صحافی مقامی مسائل، شہری سہولتوں، انتظامی معاملات اور عوامی ضروریات پر بھی لکھا۔ ان کی تحریروں میں کھاریاں کے شہری مسائل اور مقامی ترقی سے متعلق موضوعات بھی ملتے ہیں۔ ان کی صحافتی سرگرمیوں کا دائرہ صرف ادبی رپورٹنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے اپنے علاقے کے اجتماعی معاملات کو بھی قلم بند کیا۔ ان کی حالیہ تحریروں کی مثالیں عالمی اخبار میں شائع ہونے والے ان کے مضامین میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
کھاریاں میں ان کی ادبی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں بخشالوی اسٹریٹ کا نام بھی ان کی شخصیت سے منسوب ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ مقامی سطح پر ان کے طویل ادبی و صحافتی تعلق اور شہر کی ادبی زندگی میں ان کی موجودگی کی ایک دلچسپ علامت ہے۔
گل بخشالوی کی ادبی خدمات میں انتخاب و تدوین کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شعراء کے کلام کو یکجا کر کے شائع کرنا ادبی روابط کو مضبوط بنانے اور مختلف علاقوں کے اہلِ قلم کو ایک دوسرے سے متعارف کرانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
سوچ رُت — 1984
ان کی ادبی زندگی کا اہم سنگِ میل غزلوں کا انتخاب سوچ رُت ہے۔ یہ کتاب 1984ء میں شائع ہوئی اور اس میں 376 شعراء اور شاعرات کا کلام شامل کیا گیا۔ اس انتخاب کی تیاری کے لیے انہوں نے طویل عرصے تک مختلف اہلِ قلم سے رابطے کیے اور ان کا کلام جمع کیا۔
یہ کتاب ان کی ادبی شناخت کا بنیادی حوالہ بن گئی۔ راولپنڈی کے شاعر سرور انبالوی نے ریڈیو پاکستان سے اس انتخاب پر تبصرہ بھی نشر کیا، جس سے کتاب اور قلم قافلہ کی ادبی سرگرمیوں کو مزید توجہ حاصل ہوئی۔
غزل دستار — 2021ء
یہ گل بخشالوی کا ایک اور قابلِ ذکر انتخاب ہے، جس میں پاکستان، بھارت اور دنیا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد شعراء کا کلام شامل کیا گیا۔ اس کتاب میں ہر شاعر کی غزل کے ساتھ اس کی شناخت اور رابطے کی معلومات بھی درج کی گئیں۔
اس انتخاب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اسے روایتی تجارتی کتاب کے بجائے اعزازی طور پر قارئین اور اہلِ قلم میں تقسیم کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ اس نوعیت کی تدوینی کاوشیں ادبی حلقوں کے درمیان رابطے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
گل بخشالوی کی تصانیف میں شاعری، نعت، سفرنامہ، افسانہ، کالم نگاری اور مختلف موضوعات پر نثری تحریریں شامل ہیں۔ دستیاب ادبی تعارف میں ان کی تصانیف و تالیفات کی تعداد 46 بیان کی گئی ہے، تاہم ان تمام کتابوں کی مکمل، مستند اور تازہ فہرست دستیاب مواد سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے ذیل میں ان کتابوں اور عنوانات کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کی اشاعت یا موجودگی کے حوالے ملتے ہیں۔
r
| کتاب کا نام | صنف یا موضوع |
| ——————— | ——————————– |
| سوچ رُت | غزلوں کا انتخاب، 1984ء |
| گلزارِ محمد | حمد و نعت، 2010ء |
| گلستانِ نعت | نعتیہ شاعری |
| میرا قبیلہ محمدی ہے | نعتیہ و روحانی موضوعات |
| حیاتِ طیبہ | سیرت و عقیدت سے متعلق نعتیہ کلام |
| قلزمِ خون | شعری مجموعہ |
| ادھورے خواب | شعری مجموعہ |
| سوچ سفر | شاعری و فکری موضوعات |
| چراغ سرِ دیوار | نظموں کا مجموعہ |
| پاکستان سے پاکستان تک | سفرنامہ و مشاہدات |
| جو ہم پہ گزری | افسانوی مجموعہ |
| منڈیلا کے دیس میں | سفرنامہ |
| جا دیکھا تیرا امریکہ | سفرنامہ |
| سفرنامہ دیارِ نبی ﷺ | مذہبی و روحانی سفرنامہ |
| غزل دستار | شعراء کے کلام کا انتخاب، 2021ء |
ان کی کتاب پاکستان سے پاکستان تک کے حوالے سے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں شائع ہونے والے تبصرے میں اسے مختلف سفری تجربات اور مشاہدات پر مشتمل کتاب قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کھاریاں سے مدینہ تک کا سفر، حج کی سعادت، رمضان المبارک میں دیارِ حبیب ﷺ میں قیام، عرب امارات، جنوبی افریقہ اور امریکہ کے سفر جیسے موضوعات شامل ہیں۔
اسی طرح جو ہم پہ گزری میں 28 کہانیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس کتاب کی کہانیوں میں سماجی ناانصافی، انسانی محرومی، معصوم لوگوں کی مشکلات، اجڑے گھروں اور ادھورے خوابوں جیسے موضوعات شامل ہیں۔ تبصرے کے مطابق مصنف نے حقیقی واقعات اور انسانی تجربات کو افسانوی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
کسی ادیب کی تخلیقی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے کام کو اس کی اپنی ادبی برادری سے آگے علمی و تحقیقی حلقوں میں بھی موضوعِ مطالعہ بنایا جائے۔ گل بخشالوی کی ادبی خدمات پر یونیورسٹی کی سطح پر تحقیق ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
2017 میں پروفیسر محمد سلیم سندھو نے ان کی ادبی خدمات پر ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ ایک ادبی مضمون میں ان کی شاعری، ادبی خدمات اور سفرناموں پر تین ایم فل ڈگریوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ ان دعوؤں کی مکمل تفصیلات، جامعات اور مقالوں کے عنوانات کی الگ سے تصدیق ضروری ہے، تاہم یہ حوالہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی ادبی سرگرمیوں نے تحقیقی سطح پر بھی دلچسپی پیدا کی ہے۔
گل بخشالوی کی ادبی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی شخصیت کے چند نمایاں پہلو سامنے آتے ہیں:
ادبی تنظیم سازی: بزمِ گل اور قلم قافلہ کے ذریعے مقامی ادبی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی کوشش۔
شاعری میں تنوع: غزل، نظم، حمد اور نعت سمیت مختلف اصناف میں اظہار۔
ادبی تدوین: سوچ رُت اور غزل دستار جیسے انتخاب کے ذریعے مختلف شعراء کے کلام کو یکجا کرنا۔
صحافت سے وابستگی: کھاریاں ٹائمز اور قلم قافلہ جیسے اشاعتی منصوبوں کے ذریعے مقامی صحافت اور ادب کو فروغ دینا۔
سفرنامہ نگاری: مختلف ممالک اور مقدس مقامات کے سفر کو مشاہدات اور ذاتی تجربات کے ساتھ قلم بند کرنا۔
سماجی شعور: غربت، محرومی، معاشرتی مسائل اور عام انسان کی زندگی کے تجربات کو اپنی تحریروں میں جگہ دینا۔
نعتیہ ادب: مذہبی عقیدت اور عشقِ رسول ﷺ کو شعری اظہار کا اہم موضوع بنانا۔
ان کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ ادبی خدمات کے لیے ہمیشہ بڑے شہروں کے بڑے اداروں یا وسیع مالی وسائل کا ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات ایک شخص کا مسلسل جذبہ، اپنے علاقے سے محبت اور اہلِ قلم کو یکجا کرنے کی کوشش ایک مقامی ادبی روایت کو جنم دے سکتی ہے۔
گل بخشالوی نے اپنی ادبی شناخت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے کلام کو بھی منظرِ عام پر لانے کی کوشش کی۔ ان کے انتخاب اور ادبی تنظیم سازی کے کام کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کسی شاعر کی اپنی تخلیقات اس کی انفرادی صلاحیت کی نمائندگی کرتی ہیں، جب کہ دوسروں کے لیے ادبی پلیٹ فارم مہیا کرنا ایک الگ نوعیت کی خدمت ہے۔ گل بخشالوی کے کام میں یہ دونوں پہلو ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
سبحان الدین گل بخشالوی کی زندگی کا سفر ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے محدود رسمی تعلیم اور معاشی مشکلات کے باوجود ادب کو اپنی زندگی کا مستقل حوالہ بنایا۔ بخشالی سے کھاریاں تک کا ان کا سفر محض جغرافیائی نقل مکانی نہیں بلکہ ایک ادبی اور صحافتی شناخت کی تشکیل کا سفر بھی ہے۔
ان کی شاعری میں انسانی احساسات، وطن سے محبت اور روحانی وابستگی کے رنگ ملتے ہیں۔ ان کی نثر میں سفر، مشاہدہ اور سماجی موضوعات کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جب کہ ان کی صحافتی اور تدوینی سرگرمیاں مقامی ادبی ماحول کی تعمیر سے جڑی ہوئی ہیں۔
ان کی خدمات کا جامع جائزہ لیتے ہوئے ان کی تصانیف کے مستند کتابی کوائف، مطبوعات کے سنِ اشاعت، مختلف ادبی تنظیموں کے ریکارڈ اور ان پر لکھے گئے تحقیقی مقالات کو یکجا کرنا مفید ہوگا۔ اس سے نہ صرف گل بخشالوی کی ادبی زندگی کا زیادہ مستند خاکہ مرتب ہو سکے گا بلکہ کھاریاں اور پنجاب کے مقامی ادبی و صحافتی تاریخ کے ایک اہم باب کو بھی محفوظ کیا جا سکے گا۔
گل بخشالوی کی شخصیت کا بنیادی حوالہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے لیے لکھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی ادبی راستے کھولنے کی کوشش کی۔ یہی وصف انہیں محض شاعر یا صحافی سے آگے بڑھا کر ایک ادبی منتظم اور اردو زبان کے فروغ کے لیے سرگرم کارکن کے طور پر متعارف کراتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ان کے والدین اور اہلیہ محترمہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جناب گل بخشالوی کو دین و دنیا کی ساری خوشیاں کامیابیاں اور آسانیاں نصیب فرمائے ہمیشہ تقسیم کرنے والا بنائے آمین
