وزیرِ خزانہ اور برطانوی ہائی کمشنر کے درمیان ملاقات، معاشی اصلاحات، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال

اسلام آباد

اسلام آباد: پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سی ایم جی، او بی ای نے وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ برطانوی ہائی کمشنر کے ہمراہ ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈاک اور سینئر ماہرِ معاشیات لوئی ڈین بھی موجود تھے۔

وزیرِ خزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی معاشی اصلاحات میں برطانیہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ تکنیکی معاونت، مہارت اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب گامزن ہے، جہاں پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کی معاشی ترقی میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی اور پالیسی نظام کو مضبوط بنانے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب امریکی ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کے کامیاب اجرا کو بھی سراہا اور اسے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔

ملاقات کے دوران سینیٹر محمد اورنگزیب نے حکومت کی چھ اہم معاشی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان میں معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا، پائیدار اور جامع ترقی، ساختی اصلاحات کا تسلسل، امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ، مالی وسائل تک رسائی میں توسیع اور پاکستان کو نئی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا شامل ہے۔

فریقین نے مالیاتی نظم و نسق، ٹیکس نظام میں بہتری، ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری اخراجات میں مؤثریت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، عوامی سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شعبوں کے اشتراک سے منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ وزیرِ خزانہ نے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات پر یکساں اور مؤثر عمل درآمد کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

ملاقات میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاروں کو سہولتوں کی فراہمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات بھی زیرِ بحث آئے۔

سرکاری و نجی شعبوں کے اشتراک سے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے امکانات پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے منصوبوں کی بہتر تیاری، تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل ڈھانچے اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کی اہمیت اجاگر کی۔ برطانوی وفد نے اس ضمن میں صوبائی سطح پر بھی متعلقہ تکنیکی مہارت فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے معاشی استحکام، کیپیٹل مارکیٹس اور نجکاری کے عمل میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور معیشت کو سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب لے جانا ہے۔

ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور برطانوی کاروباری اداروں کی پاکستان میں شمولیت کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانوی کمپنیوں اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے روابط کو بروئے کار لا کر نجی شعبے کی ترقی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

دونوں جانب سے ہوا بازی کے شعبے میں تعاون، بین الاقوامی مالیاتی معاونت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔ برطانوی وفد نے بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں کے ممکنہ کردار کو اجاگر کیا، جبکہ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس حوالے سے تکنیکی اور تجارتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش رفت کی جائے گی۔

وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی پر بھی روشنی ڈالی، جس کا مقصد عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی مضبوط بنانا، مالی وسائل کے معیار اور پائیداری کو بہتر کرنا، قرضوں کی دوبارہ ادائیگی کے دباؤ میں کمی لانا اور طویل مدتی و نسبتاً کم لاگت مالی وسائل کے حصول کے مواقع بڑھانا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور نجی شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی اشتراک پائیدار معاشی ترقی اور کاروباری مواقع میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے