جنرل حمید گل: تعارف، عسکری خدمات، افغان پالیسی اور ایک متنازع تاریخی ورثہ

اسلام آبادپاکستانتازہ ترینخصوصی رپورٹسشخصیات

حميد غول.. عسكري باكستاني ناهض السياسات الأميركية | موسوعة | الجزيرة نت

پاکستان کی عسکری، سیاسی اور تزویراتی تاریخ میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جن کا نام افغان جنگ، پاکستان کی انٹیلی جنس پالیسی، بھارت کے ساتھ تعلقات اور ملکی سیاست کے کئی اہم ابواب سے جڑا ہوا ہے۔ وہ 1987 سے 1989 تک انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ ان کی شخصیت کے بارے میں آرا مختلف رہی ہیں؛ بعض حلقوں نے انہیں پاکستان کے تزویراتی مفادات کا مضبوط حامی قرار دیا، جبکہ ناقدین نے ان کی افغان پالیسی اور ملکی سیاست میں مبینہ کردار پر سخت سوالات اٹھائے۔

جنرل حمید گل کی زندگی کا مطالعہ صرف ایک سابق فوجی افسر کی سوانح عمری نہیں، بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی، افغانستان میں سوویت مداخلت کے خلاف مزاحمت، سرد جنگ کے اختتام اور سول ملٹری تعلقات کی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔

ابتدائی زندگی اور عسکری سفر

جنرل حمید گل 20 نومبر 1936 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1954 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 1956 میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کا تعلق آرمرڈ کور کی 19 لانسرز رجمنٹ سے تھا۔ فوجی زندگی کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی اور بتدریج کمانڈ اور انٹیلی جنس سے متعلق اہم ذمہ داریوں تک پہنچے۔

1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران وہ ٹینک کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اس جنگ میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے انہیں ستارۂ جرأت سے نوازے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں 1968–1969 کے دوران تربیت حاصل کی، جو اعلیٰ عسکری کمانڈ کے لیے ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

1972 سے 1976 کے دوران انہوں نے بٹالین کمانڈر اور دیگر اہم عہدوں پر کام کیا۔ 1978 میں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی پائی، بعد ازاں ملتان میں فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کی کمان اور بہاولپور میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ ان کے عسکری سفر میں کمانڈ، انتظامی امور اور انٹیلی جنس تینوں شعبوں کا امتزاج نمایاں رہا۔

آئی ایس آئی کی سربراہی: ایک اہم دور

Former ISI chief Hamid Gul dies of brain hemorrhage - Pakistan - DAWN.COM

dawn.com

جنرل حمید گل نے 1980 کی دہائی میں فوجی انٹیلی جنس کے شعبے میں اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور 1987 میں آئی ایس آئی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ ان کا دور ایسے وقت میں شروع ہوا جب افغانستان میں سوویت افواج کی موجودگی کے خلاف جنگ اپنے آخری اور فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو رہی تھی۔

اس وقت پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب سمیت متعدد فریق افغان مجاہدین کی مدد کر رہے تھے۔ اس تعاون میں مالی وسائل، اسلحے اور رسد کی فراہمی شامل تھی، جبکہ آئی ایس آئی ان سرگرمیوں میں ایک اہم رابطہ کار اور عملی ادارہ تھی۔ جنرل حمید گل نے اسی ماحول میں افغان مزاحمتی گروہوں کی معاونت سے متعلق پالیسیوں میں کردار ادا کیا۔

ان کے حامیوں کے نزدیک اس حکمت عملی کا مقصد پاکستان کی مغربی سرحد پر سوویت اثر و رسوخ کو روکنا اور افغانستان میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ تھا۔ ناقدین کے مطابق، مسلح گروہوں کی سرپرستی پر مبنی پالیسی نے افغانستان میں طاقت کے توازن کو پیچیدہ بنایا اور مستقبل میں خطے کو درپیش شدت پسندی کے مسائل کے لیے بھی حالات پیدا کیے۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے کے لیے اس دور کے بین الاقوامی حالات اور بعد کے نتائج کو ساتھ رکھنا ضروری ہے۔

افغان جنگ اور پاکستان کے تزویراتی مفادات

جنرل حمید گل کی شہرت کا سب سے اہم پہلو افغان جنگ میں ان کا کردار تھا۔ 1979 میں افغانستان میں سوویت فوجی مداخلت کے بعد پاکستان خطے کی سرد جنگ کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے، سرحدی علاقوں کی صورت حال تبدیل ہوئی اور پاکستان نے افغان مزاحمت کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

حمید گل اس پالیسی کے نمایاں عسکری حامیوں میں شامل تھے۔ ان کے نزدیک افغانستان میں سوویت اثر و رسوخ کا خاتمہ پاکستان کی سلامتی کے لیے اہم تھا۔ ان کے دور میں افغان مجاہدین کی معاونت اور مختلف گروہوں کے ساتھ روابط آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کا اہم حصہ رہے۔ اس پالیسی کے وسیع تر پس منظر میں امریکی سی آئی اے اور سعودی عرب کی مالی و عسکری معاونت بھی شامل تھی۔

1989 میں سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا نے پاکستان سمیت ان تمام قوتوں کو ایک بڑی تزویراتی تبدیلی سے دوچار کیا جو اس جنگ میں شریک تھیں۔ تاہم، سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں امن قائم نہ ہو سکا۔ مختلف افغان گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت نے ملک کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیلا۔

جنرل حمید گل کے ناقدین کا استدلال ہے کہ افغان پالیسی میں مسلح گروہوں کو اہمیت دینے سے طویل مدتی مسائل پیدا ہوئے۔ دوسری جانب ان کے حامی اس دور کو سرد جنگ کے تناظر میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے قومی مفادات اور سرحدی سلامتی کے تحفظ کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ ان پالیسیوں کے فوری مقاصد اور طویل مدتی نتائج، دونوں کا جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔

آئی ایس آئی سے علیحدگی اور بعد کی عسکری ذمہ داریاں

جنرل حمید گل تقریباً دو سال آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ 1989 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا اور بعد میں ملتان میں دوسری کور کی کمان سونپی گئی۔ یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان میں منتخب حکومت اور فوجی اداروں کے درمیان اختیارات اور قومی سلامتی کی پالیسیوں پر اختلافات موجود تھے۔

ان کے فوجی کیریئر کا اختتام 1990 کی دہائی کے آغاز میں ہوا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ قومی سلامتی، افغانستان، بھارت اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں اپنی آرا کا کھل کر اظہار کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں پاکستان کی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور خطے میں طاقت کے توازن جیسے موضوعات نمایاں رہتے تھے۔

ملکی سیاست میں کردار اور آئی جے آئی کا معاملہ

جنرل حمید گل کی زندگی کا ایک اہم اور متنازع پہلو پاکستان کی داخلی سیاست میں ان کا مبینہ کردار تھا۔ 1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے قیام اور اس کے سیاسی مقاصد کے حوالے سے ان کا نام زیر بحث آیا۔ اس اتحاد کو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ایک سیاسی قوت کے طور پر دیکھا گیا۔

روزنامہ ڈان کی رپورٹنگ کے مطابق، جنرل حمید گل نے 2012 میں ایک انٹرویو کے دوران آئی جے آئی کی تشکیل کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں اور اس معاملے کو بعد کے برسوں میں بھی سول ملٹری تعلقات اور انتخابات میں ادارہ جاتی مداخلت کی بحث کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔

یہ معاملہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سوال سامنے لاتا ہے: قومی سلامتی کے اداروں کا دائرۂ کار کہاں تک ہونا چاہیے اور منتخب سیاسی عمل میں ان کا کردار کس حد تک قابل قبول ہے؟ اس سوال پر مختلف سیاسی اور قانونی آرا موجود ہیں، لیکن آئی جے آئی کے معاملے نے فوج اور سیاست کے تعلق پر بحث کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

بھارت، کشمیر اور قومی سلامتی کا تصور

جنرل حمید گل بھارت کے بارے میں سخت مؤقف رکھنے والے سابق فوجی افسران میں شمار ہوتے تھے۔ وہ کشمیر کے مسئلے، بھارت کی علاقائی پالیسی اور پاکستان کے دفاعی مفادات پر اکثر گفتگو کرتے تھے۔ ان کے نزدیک پاکستان کو خطے میں اپنی دفاعی اور تزویراتی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے فعال پالیسی اختیار کرنی چاہیے تھی۔

تاہم، ان کے مؤقف کے ناقدین سمجھتے تھے کہ مسلح گروہوں پر انحصار اور سخت گیر علاقائی حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان کو سفارتی، داخلی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے ان کی پالیسیوں کا جائزہ لیتے وقت قومی سلامتی کے تصورات کے ساتھ ان کے ممکنہ علاقائی اور داخلی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

طالبان کے بارے میں مؤقف اور تنازعات

جنرل حمید گل کو افغان طالبان کے بارے میں اپنے مؤقف کی وجہ سے بھی بین الاقوامی میڈیا میں خاص توجہ حاصل رہی۔ بعض مبصرین نے انہیں طالبان کے ابتدائی عروج کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے والی شخصیات میں شمار کیا، جبکہ دیگر تجزیوں میں افغان مزاحمتی گروہوں کے مختلف ادوار اور تنظیموں کے درمیان فرق کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ افغان مجاہدین، بعد میں ابھرنے والے طالبان اور دوسرے مسلح گروہ ایک ہی تنظیم یا ایک ہی تاریخی مرحلے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کے درمیان نظریاتی، تنظیمی اور سیاسی فرق موجود رہے ہیں۔ اس لیے جنرل حمید گل کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے تمام گروہوں کو ایک ہی نام سے پکارنا تاریخی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

بین الاقوامی سطح پر ان کے بارے میں بعض سنگین الزامات بھی سامنے آئے، جن میں مسلح سرگرمیوں سے مبینہ روابط کے دعوے شامل تھے۔ انہوں نے ایسے الزامات کو مسترد کیا۔ ان دعوؤں اور ان کے ردعمل کو الگ الگ بیان کرنا ضروری ہے؛ محض الزام کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا درست نہیں۔

قومی سلامتی، امریکہ اور خودمختاری کا تصور

جنرل حمید گل امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو محض اتحادی تعلقات کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، بلکہ ان کے نزدیک دونوں ممالک کے مفادات میں ہم آہنگی کے ساتھ اختلافات بھی موجود تھے۔ افغان جنگ کے دوران امریکہ پاکستان کے ذریعے افغان مزاحمت کی مدد کر رہا تھا، لیکن جنگ کے اختتام کے بعد دونوں ممالک کی ترجیحات میں فرق نمایاں ہونے لگا۔

حمید گل نے بعد کے برسوں میں امریکی خارجہ پالیسی، افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی اور پاکستان پر بیرونی دباؤ کے بارے میں تنقیدی مؤقف اختیار کیا۔ 2010 میں الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے افغانستان میں امریکی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے طالبان کے مستقبل کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ان کے حامی ان خیالات کو پاکستان کی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی حمایت سے تعبیر کرتے تھے۔ ان کے ناقدین کے نزدیک ان کی بعض پیش گوئیاں اور تجزیے خطے کی پیچیدہ سیاسی و سماجی حقیقتوں کو پوری طرح نہیں سمیٹتے تھے۔ بہرحال، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ قومی سلامتی کے مباحث میں ایک نمایاں آواز بنے رہے۔

اعزازات اور عسکری خدمات

جنرل حمید گل کی عسکری خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ دستیاب سوانحی ریکارڈ میں درج ذیل اعزازات کا ذکر ملتا ہے۔

  • ستارۂ جرأت: 1965 کی جنگ میں ان کی عسکری کارکردگی کے حوالے سے۔
  • ہلالِ امتیاز (ملٹری): عسکری خدمات کے اعتراف میں۔
  • ستارۂ بسالت: ان کے اعزازات میں شامل۔

ان اعزازات کے علاوہ ان کے فوجی سفر میں مختلف کمانڈ عہدے، انٹیلی جنس کی ذمہ داریاں اور اعلیٰ عسکری قیادت میں خدمات شامل رہیں۔ تاہم، کسی فوجی افسر کی خدمات کا مکمل جائزہ صرف اعزازات یا عہدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی پالیسیوں، فیصلوں اور ان کے نتائج کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔

وفات اور آخری ایام

Former ISI chief Hamid Gul dies of brain hemorrhage - Pakistan - DAWN.COM

جنرل حمید گل 15 اگست 2015 کو مری میں دماغی شریان سے خون بہنے کے باعث انتقال کر گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 78 برس تھی۔ انہیں راولپنڈی کے فوجی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات پر سیاسی، عسکری اور عوامی حلقوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات سامنے آئے۔

ان کی وفات کے بعد بھی ان کی شخصیت اور پالیسیوں پر بحث ختم نہیں ہوئی۔ بعض حلقوں نے انہیں پاکستان کے دفاعی مفادات کا حامی اور افغانستان میں سوویت اثر و رسوخ کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والی شخصیت قرار دیا، جبکہ دوسرے حلقوں نے ان کی سیاسی مداخلت اور مسلح گروہوں سے متعلق حکمت عملی پر تنقید کی۔

جنرل حمید گل کی تاریخی میراث: ایک غیر جانب دارانہ جائزہ

جنرل حمید گل کی تاریخی اہمیت کو تین بنیادی پہلوؤں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

اول: عسکری اور انٹیلی جنس خدمات۔ انہوں نے پاکستان آرمی میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دیں اور آئی ایس آئی کی قیادت ایسے دور میں کی جب افغانستان، پاکستان کی قومی سلامتی اور عالمی سیاست کے اہم ترین مسائل میں شامل تھا۔

دوم: علاقائی حکمت عملی۔ افغان جنگ کے آخری مراحل میں ان کا کردار پاکستان کی تزویراتی سوچ اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے مطالعے کے لیے اہم ہے۔ تاہم، اس دور کی پالیسیوں کے طویل مدتی نتائج پر اختلاف موجود ہے، خصوصاً افغانستان میں بعد کی خانہ جنگی اور مسلح گروہوں کے پھیلاؤ کے حوالے سے۔

سوم: سول ملٹری تعلقات۔ آئی جے آئی کے معاملے میں ان کا تسلیم کردہ کردار پاکستان میں انتخابات، سیاسی عمل اور عسکری اداروں کی حدود کے بارے میں ہونے والی بحث کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ پہلو ان کی شخصیت کے مطالعے کو محض عسکری سوانح عمری تک محدود نہیں رہنے دیتا۔

جنرل حمید گل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے حامیوں کی آرا اور ناقدین کے اعتراضات دونوں کو تاریخی شواہد کے ساتھ دیکھا جائے۔ نہ کسی شخصیت کی تمام خدمات کو نظرانداز کرنا درست ہے اور نہ اس کے متنازع فیصلوں کو محض حب الوطنی یا قومی مفاد کے نام پر تنقید سے بالاتر سمجھنا مناسب ہے۔

اختتامیہ

جنرل حمید گل پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ کی ایک نمایاں مگر متنازع شخصیت تھے۔ ان کا نام افغان جنگ، آئی ایس آئی کی تاریخ، بھارت کے ساتھ تعلقات اور پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کے اہم مباحث سے وابستہ ہے۔ ان کے حامی انہیں قومی مفادات کے لیے مضبوط مؤقف رکھنے والے افسر کے طور پر یاد کرتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کی بعض پالیسیوں اور سیاسی کردار کو پاکستان اور خطے کے لیے طویل مدتی مسائل سے جوڑتے ہیں۔

تاریخ میں کسی شخصیت کی اصل اہمیت صرف اس کے عہدے، شہرت یا مقبولیت سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس کے فیصلوں اور ان کے نتائج سے بھی ہوتی ہے۔ جنرل حمید گل کی زندگی اور خدمات کا متوازن مطالعہ ہمیں یہی سبق دیتاہے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور سیاسی عمل کے فیصلوں کو فوری فوائد کے ساتھ ان کے طویل مدتی اثرات کی روشنی میں بھی پرکھنا چاہیے۔ یہی طرزِ مطالعہ پاکستان کی تاریخ کو زیادہ گہرائی اور دیانت داری کے ساتھ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے