سری لنکا میں پاکستانیوں کے کاروباری مواقع: پاک سری لنکا اقتصادی تعاون اور ہائی کمشنر ایڈمرل فریڈ سینوی راتنے کا کردار

اسلام آباداوورسیزپاکستانتازہ ترینخصوصی رپورٹسدنیاسفارتی خبریںشخصیات

خصوصی تجزیاتی مضمون | پاسبان نیوز

Sri Lankan envoy satisfied with security arrangements for cricket team following Islamabad blast - Sport - DAWN.COM

سری لنکا پاکستانی تاجروں، صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے جنوبی ایشیا کی ایک اہم ممکنہ منڈی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات، آزاد تجارتی معاہدہ، جغرافیائی قربت اور کاروباری تعاون کے امکانات موجود ہیں، لیکن دوطرفہ تجارت کی موجودہ سطح اس صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔

پاکستان میں سری لنکا کے موجودہ ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فریڈ سینوی راتنے (Rear Admiral Fred Seneviratne) ہیں، جنہوں نے جون 2025 میں اسلام آباد میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ دفاعی اور انتظامی تجربے کے حامل سفارت کار ہیں اور پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کے لیے سرگرم رہے ہیں۔

پاکستانی کاروباری برادری کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ سری لنکا کی منڈی میں کون سی مصنوعات اور خدمات کامیاب ہو سکتی ہیں، وہاں سرمایہ کاری کے کیا امکانات ہیں اور دونوں ممالک کے سفارتی ادارے پاکستانی کاروباری افراد کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔

سری لنکا میں پاکستانی کاروباری افراد کے لیے اہم مواقع

Aerial View Of Colombo Business District With Port And Ocean Skyline

1۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات

پاکستان ٹیکسٹائل، دھاگے، کپڑے اور تیار ملبوسات کی پیداوار میں تجربہ رکھتا ہے۔ سری لنکا میں گارمنٹس کی صنعت اور متعلقہ سپلائی چین پاکستانی صنعت کاروں کے لیے کاروباری شراکت داری کے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستانی کمپنیاں سری لنکن مینوفیکچررز کو کپڑا، دھاگا، صنعتی ٹیکسٹائل اور دیگر خام مال فراہم کرنے کے علاوہ مشترکہ پیداوار، ڈیزائن اور مصنوعات کی تیاری کے منصوبوں پر بھی غور کر سکتی ہیں۔

2۔ ادویات اور طبی آلات

پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت، سرجیکل آلات اور طبی استعمال کی بعض مصنوعات سری لنکا کی منڈی میں مواقع رکھتی ہیں۔ تاہم، ادویات کی برآمد کے لیے سری لنکن ریگولیٹری منظوری، مصنوعات کی رجسٹریشن، معیار اور متعلقہ درآمدی ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔

جنوری 2026 میں دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں ادویات، ضروری ادویات کی رجسٹریشن میں سہولت، مشترکہ منصوبوں اور طبی شعبے میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔

3۔ چاول، زرعی مصنوعات اور حلال خوراک

پاکستانی باسمتی چاول، مکئی، گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات سری لنکا کے خریداروں کے لیے ممکنہ کاروباری مواقع فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا کے آزاد تجارتی معاہدے میں چاول کے لیے مخصوص ترجیحی سہولتیں بھی شامل ہیں، جن پر عمل درآمد متعلقہ کوٹے، قواعدِ اصل اور درآمدی شرائط کے مطابق ہوتا ہے۔

پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سری لنکا کی طلب، مقامی مقابلے، شپنگ لاگت، غذائی معیار اور زرعی مصنوعات کے لیے درکار صحت و نباتات سے متعلق سرٹیفکیٹس کا پہلے جائزہ لیں۔

4۔ سیمنٹ، تعمیراتی سامان اور انجینئرنگ مصنوعات

پاکستان سے سری لنکا کو سیمنٹ، شیشے کی مصنوعات، انجینئرنگ سامان اور بعض صنعتی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ جنوری 2026 کے مشترکہ اقتصادی کمیشن میں کیمیکلز، پولیمرز، انجینئرنگ مصنوعات، شیشے اور صنعتی تعاون کے شعبے بھی زیر بحث آئے۔

اس شعبے میں کامیابی کے لیے پاکستانی کمپنیوں کو مقامی درآمد کنندگان، تعمیراتی اداروں اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست کاروباری روابط قائم کرنے چاہییں۔

5۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات

پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے سری لنکا میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سائبر سکیورٹی، کاروباری آٹومیشن، فِن ٹیک اور آئی ٹی سے متعلق آؤٹ سورسنگ کی خدمات فراہم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

دونوں ممالک نے ڈیجیٹل معیشت، ٹیلی کمیونیکیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

6۔ سیاحت، ہوٹلنگ اور مشترکہ سرمایہ کاری

سری لنکا میں سیاحت، ہوٹلنگ، فوڈ سروسز اور متعلقہ خدمات اہم کاروباری شعبے ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار مقامی شراکت داروں کے ساتھ ہوٹلنگ، سیاحتی خدمات، ریسٹورنٹس اور متعلقہ کاروبار کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

البتہ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے مقامی قوانین، غیر ملکی ملکیت کی شرائط، ٹیکس، لائسنس اور منافع کی منتقلی سے متعلق ضوابط کی تصدیق ضروری ہے۔

ہائی کمشنر ایڈمرل فریڈ سینوی راتنے کا خصوصی کردار

Pakistan, Lanka agree to expand cultural ties

سری لنکا کے ہائی کمشنر ایڈمرل فریڈ سینوی راتنے نے پاکستان میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاروباری اداروں سے رابطے کیے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو سری لنکا کی معاشی صورت حال اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے آگاہ کرنا بھی شامل ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس سے رابطہ

پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور تجارت بڑھانے کے امکانات پر بات کی۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں کو سری لنکا میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارت کو موجودہ سطح سے آگے بڑھانے اور کاروباری وفود کے تبادلے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں سرمایہ کاری کی دعوت

25 فروری 2026 کو ہائی کمشنر ایڈمرل فریڈ سینوی راتنے نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو سری لنکا کے متعدد شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، جن شعبوں کی نشاندہی کی گئی ان میں ٹیکسٹائل و ملبوسات، الیکٹرانکس، ادویات، آئی ٹی، سیاحت، زراعت و فوڈ پروسیسنگ، تعمیرات، بنیادی ڈھانچہ اور آٹوموبائل شامل تھے۔

پاکستان بزنس کونسل کے ساتھ روابط

6 فروری 2026 کو ہائی کمشنر نے پاکستان بزنس کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر سے کراچی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سری لنکا کی اقتصادی صورت حال، سرمایہ کاری کی پالیسیوں اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ہائی کمشنر نے پاکستانی کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کے وفد کو سری لنکا کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

یہ سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ہائی کمیشن کا کردار صرف سفارتی تقریبات تک محدود نہیں، بلکہ کاروباری برادری کو متعلقہ اداروں سے ملانے، سرمایہ کاری کے امکانات متعارف کرانے اور تجارتی روابط کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں بھی اہم ہو سکتا ہے۔

پاکستان سری لنکا آزاد تجارتی معاہدہ: کاروباری افراد کے لیے اہم سہولت

پاکستان اور سری لنکا کا آزاد تجارتی معاہدہ (Pakistan–Sri Lanka Free Trade Agreement) 12 جون 2005 سے نافذ العمل ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے منتخب مصنوعات پر ترجیحی ٹیرف سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، ہر مصنوعات پر خودکار طور پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل نہیں ہوتی؛ متعلقہ ٹیرف فہرست، قواعدِ اصل اور دیگر درآمدی شرائط دیکھنا ضروری ہے۔

جنوری 2026 میں کولمبو میں مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 13ویں اجلاس میں دونوں ممالک نے تجارت، صنعت، ادویات، زراعت، آئی ٹی، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، بندرگاہوں اور شپنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا۔

پاکستانی کاروباری افراد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی بھی برآمدی آرڈر کو حتمی شکل دینے سے پہلے وزارتِ تجارت پاکستان، سری لنکا کے محکمہ تجارت اور کسٹمز حکام سے متعلقہ مصنوعات کی موجودہ ٹیرف پوزیشن کی تصدیق کریں۔

پاکستانی تاجروں کے لیے عملی لائحۂ عمل

سری لنکا میں کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند پاکستانی افراد درج ذیل اقدامات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں:

  1. مصنوعات کا انتخاب: اپنی مصنوعات کی سری لنکن منڈی میں طلب اور مقامی مقابلے کا جائزہ لیں۔
  2. درآمد کنندگان کی تلاش: سری لنکا کے چیمبرز آف کامرس، تجارتی انجمنوں اور متعلقہ کاروباری اداروں سے رابطہ کریں۔
  3. تجارتی ضوابط: آزاد تجارتی معاہدے، ٹیرف، قواعدِ اصل اور درآمدی لائسنس کی شرائط معلوم کریں۔
  4. کاروباری وفود: ہائی کمیشن اور پاکستان کے متعلقہ چیمبرز آف کامرس کے ذریعے B2B ملاقاتوں اور تجارتی نمائشوں میں شرکت کے امکانات تلاش کریں۔
  5. سرمایہ کاری کی جانچ: مشترکہ منصوبے سے پہلے قانونی مشاورت، مقامی شراکت دار کی جانچ، ٹیکس اور مالیاتی ضوابط کا جائزہ لیں۔

اختتامیہ: سفارت کاری سے کاروباری شراکت داری تک

پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات کو نئی اقتصادی جہت دینے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی تاریخی دوستی کو کاروباری مواقع، مشترکہ سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور برآمدات میں اضافے سے جوڑا جائے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل، ادویات، سرجیکل آلات، چاول، تعمیراتی سامان اور آئی ٹی خدمات سری لنکن منڈی میں مواقع تلاش کر سکتی ہیں، جبکہ سری لنکا کے ساتھ شراکت داری پاکستانی کاروباری اداروں کو نئی علاقائی منڈیوں تک رسائی کے امکانات بھی فراہم کر سکتی ہے۔

ہائی کمشنر ایڈمرل فریڈ سینوی راتنے کی کاروباری اداروں سے ملاقاتیں، سرمایہ کاری کی دعوت اور تجارتی روابط کے فروغ کی کوششیں اس عمل میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگلا اہم مرحلہ یہ ہے کہ کاروباری ملاقاتوں کو ٹھوس معاہدوں، مشترکہ منصوبوں، نئی برآمدات اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جائے۔

پاسبان نیوز کا نقطۂ نظر: پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے ہائی کمیشن، چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور نجی شعبے کو مربوط انداز میں کام کرنا چاہیے۔ پاکستانی تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سری لنکا کو صرف ایک ممکنہ برآمدی منڈی نہیں، بلکہ طویل مدتی کاروباری شراکت داری کے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے