فیلڈ مارشل عاصم منیر: عسکری سفر، قیادت اور پاکستان کے دفاع و قومی سلامتی میں کردار
خصوصی مضمون | پاسبان نیوز
پاکستان کی تاریخ میں قومی سلامتی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی تعلقات کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان شعبوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ کا نام گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں ہوا ہے۔ انہوں نے پاکستان آرمی میں مختلف کمانڈ اور انٹیلی جنس ذمہ داریاں انجام دیں، نومبر 2022 میں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر ہوئے اور مئی 2025 میں انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ دسمبر 2025 میں وہ بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر ہوئے۔
PID
+3
ان کے عسکری سفر اور قومی سلامتی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری ہے کہ سرکاری طور پر تصدیق شدہ حقائق، ان کے بیانات، حکومت کے مؤقف اور مختلف پالیسیوں کے نتائج کو الگ الگ دیکھا جائے۔
ابتدائی زندگی اور عسکری تربیت
سید عاصم منیر نے اپریل 1986 میں پاکستان آرمی کی 23 فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ 17ویں آفیسرز ٹریننگ کورس کے فارغ التحصیل ہیں اور دورانِ تربیت تلوارِ اعزاز حاصل کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ تعلیم میں جاپان کے فوجی تربیتی ادارے، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، ملائیشین آرمڈ فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد شامل ہیں۔
انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے پبلک پالیسی اور اسٹریٹجک سکیورٹی مینجمنٹ میں ایم فل بھی کیا۔ ان کی تعلیم اور تربیت میں عسکری کمانڈ کے ساتھ قومی سلامتی، دفاعی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے پہلو شامل رہے ہیں۔
فوجی کیریئر اور اہم ذمہ داریاں
عاصم منیر کے فوجی کیریئر میں مختلف کمانڈ، تدریسی، اسٹاف اور انٹیلی جنس عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی رجمنٹ کی کمان کی، شمالی علاقہ جات میں فورس کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں گوجرانوالہ میں 30 کور کی کمان بھی سنبھالی۔ وہ جنرل ہیڈکوارٹرز میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
ان کے کیریئر کا ایک اہم پہلو پاکستان کے دونوں بڑے انٹیلی جنس اداروں کی سربراہی ہے۔ وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس اور بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) رہے۔ ان ذمہ داریوں نے انہیں داخلی و خارجی سلامتی، انٹیلی جنس معلومات کے تجزیے اور دفاعی پالیسی کے مختلف پہلوؤں سے وابستہ رکھا۔
یہ تجربہ ان کے بعد کے عسکری کردار کا اہم حصہ بنا، اگرچہ انٹیلی جنس اداروں کے کام کی بڑی تفصیلات خفیہ ہوتی ہیں اور ان کے نتائج کا مکمل آزادانہ جائزہ عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے تقرری
29 نومبر 2022 کو عاصم منیر نے چیف آف آرمی اسٹاف کا منصب سنبھالا۔ اس وقت پاکستان کو دہشت گردی، سرحدی سلامتی، معاشی دباؤ اور افغانستان کی بدلتی صورت حال جیسے متعدد چیلنجز درپیش تھے۔ ان کی قیادت میں فوجی ادارے کی ترجیحات میں آپریشنل تیاری، سرحدی نگرانی اور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے امور نمایاں رہے۔
کسی بھی آرمی چیف کی کارکردگی کا جائزہ صرف فوجی آپریشنز کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی سلامتی، شہری تحفظ، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور ریاستی پالیسی کے وسیع تر نتائج کی روشنی میں بھی لیا جانا چاہیے۔ اس لیے ان کے دور کے مختلف فیصلوں کو متعلقہ شواہد اور ان کے عملی اثرات کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی اور فیلڈ مارشل کا عہدہ
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید فوجی کشیدگی ہوئی۔ پاکستانی حکومت نے اپنے مؤقف میں مسلح افواج کی کارروائیوں کو ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع سے تعبیر کیا۔ اسی عرصے کے بعد وفاقی کابینہ نے 20 مئی 2025 کو عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی، جبکہ 22 مئی کو ایوانِ صدر میں انہیں فیلڈ مارشل کا بیٹن پیش کیا گیا۔
یہ ترقی پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک نمایاں واقعہ تھی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق، یہ فیصلہ مئی 2025 کے فوجی واقعات میں ان کی قیادت اور دفاعی کردار کے اعتراف میں کیا گیا۔ اس واقعے کا مکمل تاریخی جائزہ لینے کے لیے دونوں ممالک کے بیانات، دستیاب آزاد شواہد اور تنازع کے نتائج کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز: دفاعی قیادت کا نیا مرحلہ
دسمبر 2025 میں حکومت نے عاصم منیر کی بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تقرری کی منظوری دی۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق، یہ تقرری پانچ سال کے لیے تھی اور اس کے تحت وہ پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بنے۔
اس عہدے کی اہمیت تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطہ کاری، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی اور مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کے تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جدید جنگ میں فضائی، زمینی، بحری، سائبر اور انٹیلی جنس شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
تاہم، اس نئے انتظام کی کامیابی کا تعین صرف عہدے کے قیام سے نہیں ہوگا، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ ادارہ جاتی رابطہ کاری، وسائل کے استعمال، پیشہ ورانہ خودمختاری اور قومی دفاع کی عملی صلاحیت میں کیا قابلِ پیمائش بہتری آتی ہے۔
پاکستان کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے اہم ترجیحات
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دور میں پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے چند بنیادی شعبے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
1۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات: پاکستان کو خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ان حالات میں عوام کا تحفظ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور سرحدی سلامتی اہم ترجیحات ہیں۔ ان اقدامات کی کامیابی کا اصل پیمانہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور تشدد میں پائیدار کمی ہے۔
2۔ سرحدوں کا دفاع: بھارت کے ساتھ تعلقات، لائن آف کنٹرول کی صورت حال اور مغربی سرحد کے مسائل پاکستان کی دفاعی منصوبہ بندی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ مؤثر دفاع کے ساتھ بحرانوں کے دوران رابطے اور کشیدگی کم کرنے کے ذرائع بھی علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
3۔ جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی تیاری: جنوری 2026 میں ایک فوجی مشق کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جدید جنگ میں ٹیکنالوجی، جدت، مقامی صلاحیت اور بدلتے طریقۂ جنگ کی اہمیت پر زور دیا۔
اس تناظر میں سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، جدید نگرانی کے نظام، مقامی دفاعی پیداوار اور تربیت میں سرمایہ کاری پاکستان کے دفاعی مستقبل کے لیے اہم شعبے ہیں۔
4۔ قدرتی آفات میں معاونت: اگست 2026 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے دورے کے موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو قومی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مربوط ردعمل کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، انہوں نے اس شعبے میں مسلح افواج کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
قدرتی آفات کے دوران فوج، سول انتظامیہ اور امدادی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون انسانی جانوں کے تحفظ اور بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کے عالمی تعلقات اور دفاعی سفارت کاری
پاکستان کی قومی سلامتی صرف عسکری قوت تک محدود نہیں؛ اس میں خارجہ پالیسی، اقتصادی استحکام، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی اعتماد بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کے سعودی عرب، چین، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات اس تناظر میں اہم ہیں۔ جولائی 2026 میں ترکیہ کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ممتاز خدمات کا تمغہ دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، یہ اعزاز پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
دفاعی سفارت کاری کے ذریعے مشترکہ تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ایسے تعلقات کے دیرپا فوائد اسی وقت سامنے آتے ہیں جب وہ پاکستان کی معاشی ضروریات، سفارتی ترجیحات اور قومی مفادات کے ساتھ مربوط ہوں۔
قیادت، قومی اعتماد اور ادارہ جاتی ذمہ داری
پاکستان کے دفاعی ادارے ملکی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ایک مضبوط ریاست کے لیے دفاع کے ساتھ تعلیم، صحت، معیشت، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کا جائزہ لیتے ہوئے چند سوالات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں:
- کیا دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے شہریوں کے تحفظ میں پائیدار بہتری آتی ہے؟
- کیا جدید دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ مقامی ٹیکنالوجی اور تربیت کو فروغ ملتا ہے؟
- کیا دفاعی سفارت کاری پاکستان کے معاشی اور علاقائی مفادات کو آگے بڑھاتی ہے؟
- کیا ریاستی اداروں کے درمیان تعاون آئینی حدود، شفافیت اور عوامی اعتماد کو مضبوط بناتا ہے؟
ان سوالات کے جوابات وقت کے ساتھ دستیاب شواہد، پالیسیوں کے نتائج اور آزادانہ تجزیوں کی بنیاد پر سامنے آئیں گے۔ قومی قیادت کی حقیقی افادیت کا اندازہ اس کے اعلانات کے ساتھ ساتھ عملی نتائج سے بھی کیا جاتا ہے۔
اختتامیہ: پاکستان کے دفاع سے قومی ترقی تک
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا عسکری سفر پاکستان آرمی میں طویل خدمات، اہم کمانڈ عہدوں، دونوں بڑے انٹیلی جنس اداروں کی سربراہی اور اعلیٰ دفاعی قیادت تک پہنچنے کی داستان ہے۔ 2025 میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی اور بعد ازاں چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داری ان کے کیریئر کے نمایاں مراحل ہیں۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ دفاعی صلاحیت، داخلی امن، معاشی استحکام اور سفارتی تعلقات ایک دوسرے کو تقویت دیں۔ ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان کے لیے مضبوط دفاع کے ساتھ پائیدار معیشت، معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولیات، قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی بھی ناگزیر ہیں۔
پاسبان نیوز کا نقطۂ نظر: قومی شخصیات اور اداروں کی خدمات کا جائزہ حقائق، شواہد اور قومی مفاد کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ پاکستان کا مستقبل اسی وقت زیادہ محفوظ اور روشن ہو سکتا ہے جب دفاعی قوت، عوامی فلاح اور ادارہ جاتی استحکام ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت آگے بڑھیں۔
