
نمکین ہوں یا میٹھے چاول ہوتے ہیں بڑے کام کے – تحریر نمبر 3243
چاول تو جلدی ہضم ہونے والی غذا میں شمار کئے جاتے ہیں۔کچھ بیماریوں میں یہ نقصان دہ بھی ہوتے ہیں۔نئے چاول زود ہضم نہیں ہوتے مگر یہ کہنا کہ چاول موٹا کرتے ہیں یا صحت کے لئے قطعاً مفید نہیں صحیح نہیں ہے۔چاولوں کو خشک حالت ہی میں صاف کیجئے۔کنکر، چھلکے وغیرہ ہاتھ کی مدد سے صاف کیجئے اور پھر پھٹک کر صاف کیجئے۔احتیاط سے اُچھالئے تو گرد صاف ہو گی۔
اس کے بعد دو پانیوں میں دھونا کافی ہوتا ہے۔
نئے چاولوں کو دس منٹ بھگو کر رکھنا کافی ہوتا ہے پرانے چاولوں کے لئے بھی آدھا گھنٹہ بہت ہوتا ہے۔البتہ نئے چاولوں کو 6 ماہ بعد پکانا درست ہے۔
سیلا چاولوں کو زیادہ دیر مثلاً ایک گھنٹے سے زائد مدت کے لئے بھگو سکتے ہیں۔
پکاتے وقت بھی اتنا ہی پانی ڈالئے کہ جس سے وہ دم پر آ سکیں اور نرم بھی نہ ہوں۔
خاص کر پلاؤ اور بریانی بناتے وقت پانی کی مقدار پر ضرور توجہ دیں۔
چاولوں میں کولیسٹرول اور نمک کم ہوتا ہے۔
بدہضمی یا اسہال کی صورت میں مونگ کی دال کے ساتھ چاولوں کی پتلی کچھڑی بنتی ہے جس سے بڑوں اور بچوں دونوں کو افاقہ ہوتا ہے۔
چھلکے والی مونگ کی دال‘ اڑد کی دال اور ملکہ مسور کی دال کی کھچڑی پلاؤ کی شکل میں بھی تیار کی جاتی ہے جس کے ہمراہ ٹماٹر یا لہسن کی چٹنی بڑا عمدہ ذائقہ دیتی ہے۔
چاولوں میں نشاستہ‘ گلوٹن سے مبرا کاربوہائیڈریٹ اور معدنیات موجود ہیں لہٰذا انہیں غیر مفید کہنا غلط ہو گا۔البتہ بہت زیادہ سفید چاولوں کا استعمال جسم میں ایک معدنی جزو تھیاسین کی کمی کر سکتا ہے۔
بھورے یا براؤن رائس جسم میں آئرن اور کیلشیم کی کمی کو دور بھی کرتے ہیں اور پہلے سے موجود وٹامنز یعنی پروٹین کو محفوظ بھی کرتے ہیں۔
یہ خون میں شکر کی سطح کو متوازن کرتے ہیں تاہم ذیابیطس کے مریضوں کے لئے یہ مفید غذا نہیں وہ ڈاکٹر کے مشورے سے اپنی ڈائٹ کا تعین کریں تو اچھا ہے کسی بڑی الجھن یا مسئلے سے دوچار نہیں ہوں گے۔
ماں بننے والی خواتین وٹامن B کمپلیکس کی کمی دور کرنے کے لئے کسی بھی مشکل میں آدھی پیالی چاول کھا لیں تو افاقہ رہے گا۔انہیں پوٹاشیم اور فاسفورس بھی اس طرح مل سکے گا۔
ننھے شیر خوار بچوں کی پیاس دور کرنے کے لئے چاول کے مرمرے پانی میں بھگو کر پلاتے رہیں۔
بچے کی ٹھوس غذا کے آغاز میں چاولوں کو میش کر کے انہیں کھلایا جاتا ہے۔بازار میں تیار غذاؤں کے فلیورز میں بھی چاولوں کو شامل کیا جاتا ہے۔اس سے بچے کے پیٹ کی تیزابیت دور ہوتی ہے۔
نمکو میں بھی چاولوں کے مرمرے شامل کئے جاتے ہیں اس طرح آپ کو صحت بخش اسنیکس ملتے ہیں۔
کچھ سالن جن میں دالیں‘ کڑھی‘ شوربے والے سالن (شلجم‘ پالک گوشت) وغیرہ شامل ہیں آپ اُبلے ہوئے چاولوں کے ساتھ انہیں کھا کر لطف لیتے ہیں۔
ہائپرٹینشن کے مریضوں کے لئے چاول بہت مفید غذا ہیں۔
چاولوں کو پیس کر کھیر یا فرنی بنائی جاتی ہے جو چھوٹی بڑی دعوتوں میں پورا کنبہ شوق سے کھاتا ہے۔
