بچوں میں خسرہ کی بیماری –
جو بچے خسرہ میں مبتلا ہوں، انھیں زیادہ سے زیادہ پانی یا دودھ پلایا جائے، تاکہ وہ پانی کی کمی کا شکار نہ ہوں
ریحان کی ماں جب اسے اسکول بھیجنے کی تیاری کرا رہی تھی تو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کچھ سرخ دھبے پڑے دیکھے۔چھے سالہ ریحان کو ان سے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی، لہٰذا اس کی ماں نے سمجھا کہ شاید اسے مچھروں نے کاٹ لیا ہے، اسی لئے اس کی پیٹھ پر سرخ دھبے پڑ گئے ہیں۔
لنچ کے وقت اسکول سے فون آیا کہ وہ ریحان کو آ کر لے جائیں، کیونکہ اسے بخار ہو رہا ہے۔

دو روز بعد انھوں نے ریحان کے جسم میں مزید سرخ دھبے پڑے دیکھے۔اس سے انھیں یہ خیال پیدا ہوا کہ ان کے بیٹے کو خسرہ ہو گیا ہے، لیکن اس کی تصدیق کیسے ہوتی اور اس کا علاج کیا تھا؟ ماں الجھن میں گرفتار ہو گئی۔ان دھبوں میں چبھن ہونے لگی تھی، جس کی وجہ سے ریحان رونے لگتا تھا۔
خسرہ ایک متعدی بیماری ہے، جو وائرس سے پھیلتی ہے۔ابتدائی مرحلے پر اس کی علامات کو شناخت کرنا دشوار ہوتا ہے، بچوں کے جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوتے ہیں اور پھر انھیں بخار ہو جاتا ہے۔
یہ دھبے دن بہ دن بڑھتے چلے جاتے ہیں اور پانچویں دن آبلے بن جاتے ہیں۔اس کے بعد ان پر پپڑی سی بن جاتی ہے۔
خسرہ کا وائرس عموماً ناک یا منہ سے جسم میں داخل ہوتا ہے اور اس کے بعد دو یا تین ہفتوں میں بار آور ہو جاتا ہے۔وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے اور کئی ہفتوں تک ہوا میں زندہ رہتا ہے۔ابتدائی مرحلے میں اس کی فوری شناخت اس لئے نہیں ہو پاتی کہ کیڑوں کے کاٹنے، جلدی امراض اور وائرس کے ذریعے پھیلنے والی متعدد بیماریاں اس سے مشابہ ہوتی ہیں۔
ابتداء میں زکام ہوتا ہے، پھر بخار، سر میں درد، قے متلی اور جسم میں درد ہوتا ہے۔بھوک غائب ہو جاتی ہے۔
چند ہفتوں بعد جسم پر سرخ دھبے نمودار ہو جاتے ہیں۔اگر کسی حاملہ خاتون کو خسرہ ہو جائے تو اس کے اثرات بچے پر بھی پڑتے ہیں۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم پر خسرہ نمودار ہو جاتا ہے۔اس کی جلد پر سرخ نشانات پڑ جاتے ہیں، آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے اور وہ متورم ہو جاتی ہیں۔
اس سے دماغ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
چونکہ یہ ایک متعدی بیماری ہے، لہٰذا جسے بھی خسرہ ہو، اس سے بچنا چاہیے۔مریض کے لعابِ دہن، نزلہ زکام اور ناک سے بہنے والی رطوبت سے بھی دور رہنا چاہیے۔مریض کو چھونے سے گریز کرنا چاہیے۔مریض کو اس وقت تک دوسروں سے علیحدہ رکھنا چاہیے، جب تک کہ اس کے دھبوں پر پپڑی یا کھرنڈ نہ جم جائے۔
بچے کو دوسرے بچوں سے علیحدہ رکھنا دشوار کام ہے، لیکن جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
اگر کسی نومولود کو خسرہ ہو جائے تو اس کے لئے ماں کا دودھ بہت اہم ہے۔یہ اسے قوتِ مدافعت عطا کرتا ہے۔بچوں کے ناخن کاٹتے رہنا چاہیے، تاکہ وہ جسم پر پڑنے والے سرخ دھبوں کو کھجانے نہ لگیں۔معالج ایسے مریضوں کے لئے مانع الرجی ادویہ بھی تجویز کرتے ہیں، تاکہ اسے سکون پہنچ سکے اور ماحولیاتی چیزیں اس پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔اس کے علاوہ معالج کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض کو کھجلی سے نجات مل جائے۔
بچوں کو ٹھنڈے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہنانے سے بھی انھیں سکون ملتا ہے۔جن بچوں کو وائرسی تعدیہ (انفیکشن) ہو، انھیں ضدحیوی ادویہ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، لہٰذا انھیں ضدحیوی ادویہ نہ دی جائیں۔جو بچے خسرہ میں مبتلا ہوں، انھیں زیادہ سے زیادہ پانی یا دودھ پلایا جائے، تاکہ وہ پانی کی کمی کا شکار نہ ہوں۔پیدائش کے پہلے سال محتاط رہیے اور اپنے بچے کو ایسے بچوں سے دور رکھیے، جو زیادہ بیمار رہتے ہوں۔
جب آپ کا بچہ بارہ سے پندرہ ماہ کا ہو جائے تو اسے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین کا ٹیکا ضرور لگوائیے۔اس کے بعد جب وہ چار سے چھے برس کا ہو جائے تو ویکسین کا دوسرا ٹیکا لگوائیے، یوں خسرہ سے نجات مل جائے گی۔
کئی بار یہ ہوتا ہے کہ بچوں کی زندگی میں ایک ہی بار خسرہ نکلتا ہے۔چنانچہ ان کی صحت کے بارے میں سوچ کر پریشان نہ ہوں، البتہ پیدائش کے وقت یا اس کے بعد جب بچے کو خسرہ نکلے تو معالج سے رابطہ ضرور کریں، تاکہ اس کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو معالج مفید مشورے دے اور شافی علاج کر سکے۔
جب بچے کو بخار چڑھ جائے اور پانچ دن کے بعد بھی نہ اُترے یا اس کے جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوں تو آپ کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔خسرہ عام سی بیماری ہے اور علاج کے بعد جاتی رہتی ہے، لہٰذا ہیجان اور اضطراب میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔
