سری لنکا پاکستان کے ساتھ دفاعی، تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے: ہائی کمشنر فریڈ سینے ویراتھنے

اسلام آبادسفارتی خبریں

اسلام آباد: پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر فریڈ سینے ویراتھنے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان مضبوط اور دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم پر قائم ہیں، جبکہ دونوں ممالک دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، ثقافت، میڈیا اور قدرتی آفات سے نمٹنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کووڈ-19، سری لنکا کے معاشی بحران اور بعض علاقائی حالات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان بعض شعبوں میں باقاعدہ مشاورت متاثر ہوئی، تاہم سری لنکا کا سفارتی مشن اب دوطرفہ تعلقات میں موجود امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دفاعی تعاون انتہائی قریبی اور ہموار ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی سیکریٹریز اور مسلح افواج کے سربراہان کے درمیان باقاعدگی سے دفاعی و سکیورٹی مذاکرات ہوتے ہیں، جبکہ تقریباً 100 سری لنکن فوجی اہلکار اس وقت پاکستان میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک پاکستانی آبدوز اور دو بحری جہازوں نے سری لنکا کا خیرسگالی دورہ کیا جبکہ سری لنکن فوج کے ایک دستے نے مشترکہ تربیتی مشق میں شرکت کی۔

علاقائی سلامتی کے حوالے سے فریڈ سینے ویراتھنے نے کہا کہ دونوں ممالک بحرِ ہند کے اہم ساحلی ممالک ہیں اور سمندری قزاقی، منشیات و انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ماہی گیری جیسے غیر روایتی سکیورٹی خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کے بقول بحری سلامتی اور انٹیلی جنس شیئرنگ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تعاون کا اہم شعبہ بن سکتا ہے۔

تجارت کے بارے میں ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ موجود ہونے کے باوجود اس کی مکمل صلاحیت سے ابھی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ ان کے مطابق سری لنکا کی جانب سے معاہدے سے استفادے کی شرح تقریباً 10 فیصد جبکہ پاکستان کی جانب سے تقریباً 35 فیصد ہے، اس لیے PSFTA کا ازسرِنو جائزہ اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت و مہمان نوازی، زراعت و لائیو اسٹاک، ادویہ سازی و کیمیکلز اور ٹیکسٹائل و ملبوسات ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کو سری لنکا میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں بعض ترجیحی شعبوں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 14 فیصد ہے، جبکہ ملک کا تزویراتی محلِ وقوع، بندرگاہیں، فضائی رابطے، ہنرمند افرادی قوت، مواصلاتی نظام اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز سرمایہ کاروں کے لیے اہم سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

گندھارا تہذیب کے حوالے سے سری لنکن ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان کا بدھ مت ورثہ سری لنکا کے عوام، بالخصوص بدھ برادری کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان گندھارا تہذیب کو سری لنکا کی بدھ اکثریتی آبادی کے لیے ایک اہم مذہبی و سیاحتی مقام کے طور پر اجاگر کرے، جس سے مذہبی سیاحت اور عوامی روابط کو فروغ مل سکتا ہے۔

میڈیا تعاون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے عوام کو ایک دوسرے کے حقیقی امکانات اور صلاحیتوں سے آگاہ کرنے میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سری لنکا ٹورازم ڈویلپمنٹ بیورو نے کراچی اور لاہور میں روڈ شوز منعقد کیے جبکہ حال ہی میں پاکستان سے میڈیا نمائندوں اور ٹور آپریٹرز کو سری لنکا بھی مدعو کیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان بھی سری لنکا میں اسی نوعیت کا پروگرام منعقد کرے گا۔

موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے حوالے سے ہائی کمشنر نے کہا کہ سری لنکا اور پاکستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ موجود ہے۔ دونوں ممالک ہر سال سیلاب، سمندری طوفان اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کے حوالے سے ورچوئل مشقیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے وسیع عملی تجربے، تکنیکی معلومات اور خصوصی آلات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے فریڈ سینے ویراتھنے نے کہا کہ سری لنکا خود طویل عرصے تک دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کا سامنا کر چکا ہے، جبکہ پاکستان نے سری لنکا کی خانہ جنگی کے دوران تربیت اور فوجی سازوسامان سمیت اہم تعاون فراہم کیا تھا۔ ان کے مطابق سری لنکا اپنے تجربات پاکستان کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے تاکہ دونوں ممالک انسدادِ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی مزید مؤثر بنا سکیں۔

انہوں نے دفاعی اکیڈمیوں اور تھنک ٹینکس کے درمیان روابط بڑھانے اور مصنوعی ذہانت، دفاعی پیداوار، بغیر پائلٹ فضائی نظام اور بحری جہازوں کی جدید کاری جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سری لنکا کی موجودہ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا کہ ملک نے 30 سالہ خانہ جنگی، 2019ء کے ایسٹر سنڈے حملوں اور 2022-23ء کے شدید معاشی بحران سمیت مشکل حالات کا سامنا کیا، تاہم اب سری لنکا استحکام، اصلاحات اور معاشی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کی رہنمائی میں میکرو اکنامک استحکام بحال ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، برآمدات میں اضافہ ہوا اور سیاحت کے شعبے میں نمایاں بحالی ہوئی ہے۔

فریڈ سینے ویراتھنے نے کہا کہ طرزِ حکمرانی اور انسدادِ بدعنوانی کے شعبے میں بھی اصلاحات جاری ہیں اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے 2025ء کرپشن پرسیپشنز انڈیکس میں سری لنکا 14 درجے بہتری کے ساتھ 180 ممالک میں 107ویں نمبر پر آیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری برادری کو سری لنکا میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ استحکام اور اصلاحات کے ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے