سینٹورس میں پاک تاجک ثقافتی شام، ’’سوہنی دھرتی‘‘ کی گونج نے شائقین کے دل جیت لیے
تاجک ثقافت کے رنگ سینٹورس میں بکھر گئے، ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے‘‘ پر شائقین کا والہانہ استقبال
سینٹورس میں پاک تاجک ثقافتی شام، تاجک فنکاروں کی پرفارمنس پر شائقین جھوم اٹھے
سینٹورس اور تاجک سفارتخانے کی ثقافتی شام، پاک تاجک دوستی کے رنگ نمایاں
تاجک فنکاروں نے سینٹورس میں سماں باندھ دیا، ’’سوہنی دھرتی‘‘ کی گونج نے دل جیت لیے
سینٹورس اور تاجک سفارتخانے کے زیرِ اہتمام ثقافتی شو نے شائقین کو محظوظ کر دیا
اسلام آباد، 6 اکتوبر (ڈی این اے): اسلام آباد کے معروف شاپنگ مال دی سینٹورس اور اسلام جمہوریہ تاجکستان کے سفارتخانے کے اشتراک سے ایک رنگا رنگ ثقافتی شام کا انعقاد کیا گیا، جس نے وفاقی دارالحکومت میں بڑی تعداد میں موجود شائقین کو محظوظ کیا۔ تقریب میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب میں تاجکستان سے آئے ہوئے ثقافتی فنکاروں کے گروپ نے روایتی موسیقی، رقص اور فنکارانہ مظاہر کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ رنگا رنگ روایتی لباس میں ملبوس فنکاروں نے اپنی پُرجوش اور دلکش پرفارمنس سے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی اور تاجکستان کی منفرد ثقافتی شناخت کو اجاگر کیا۔
شام کا ایک یادگار لمحہ اس وقت آیا جب تاجک گلوکار نے پاکستان کا معروف ملی نغمہ ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے‘‘ پیش کیا۔ پاکستانی ملی نغمے کی دل کو چھو لینے والی تاجک انداز میں پیشکش پر حاضرین نے کھڑے ہو کر زبردست داد دی۔ اس خوبصورت پرفارمنس نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، احترام اور خیرسگالی کی عکاسی کرتے ہوئے ثقافتی روابط کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس موقع پر سینٹورس کے چیف ایگزیکٹو اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان نے تاجک فنکاروں کی شاندار پرفارمنس کو سراہا اور تقریب کو کامیاب بنانے پر تاجک سفارتخانے کی کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سینٹورس کے ساتھ سفارتخانے کا تعاون ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ ثقافتی تبادلے مختلف اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور سیاحت، تجارت اور ثقافتی تعاون کے ذریعے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان میں سیاحت کے فروغ اور ملک کے قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور متنوع ثقافت کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کی جانب راغب کرنے کے لیے سہولیات میں بہتری، عالمی سطح پر رابطوں میں اضافے اور ثقافتی روابط کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستان کی خارجہ اور معاشی پالیسی میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ بہتر علاقائی رابطے اور عوامی سطح پر روابط میں اضافہ خطے میں باہمی تعاون کی وسیع استعداد سے فائدہ اٹھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی ثقافتی سرگرمیاں خطے کے عوام کے درمیان مزید قربت، دوستی اور باہمی تفہیم کے فروغ کا ذریعہ بنیں گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ نے ثقافتی تقریب کی میزبانی اور تاجک روایات و فنون کو پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے پر دی سینٹورس کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

سفیر نے کہا کہ تاجکستان پاکستان کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسلام آباد کو خطے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی سفارت کاری مختلف ممالک کے درمیان دوستی کو فروغ دینے اور عوامی سطح پر تعلقات مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی روایات، ثقافت، اقدار اور طرزِ زندگی کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ تاجک فنکاروں کی پرفارمنس کو سراہتے ہوئے سفیر یوسف شریف زادہ نے کہا کہ ثقافتی وفد نے تاجک ثقافت کی خوبصورتی اور تنوع کو پاکستانی شائقین کے سامنے پیش کرنے کے لیے بھرپور محنت کی۔
انہوں نے پاکستانی شائقین کی جانب سے تاجک فنکاروں کو ملنے والی بھرپور پذیرائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرمجوش ردعمل پاکستان اور تاجکستان کے عوام کے درمیان موجود گہری محبت، قربت اور باہمی وابستگی کا مظہر ہے۔
