دیار حبیب ﷺ میں پہلی حاضری
ڈاکٹر بشری تسنیم
مکہ مکرمہ میں رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ قریب تھا تو ہم نے زیارت مسجد نبوی کا قصد کیا۔
دیار حبیب ﷺ کی زیارت کے تصور سے دل کی کیفیت ناقابل بیان خوشی، اضطراب، عقیدت، محبت کے ہیجان میں مبتلا تھی۔
دل میں ایک عجیب سی لرزش جو درد نہیں … بس ایک میٹھا سا اضطراب تھا۔
1977 میں مکہ سے مدینہ کا راستہ آج والا ہائی وے نہیں تھا۔ پرانا راستہ (طریق الھجرہ القدیم) اپنی گاڑی میں سات آٹھ گھنٹے میں طے ہونا تھا تو ہم جمعرات کی شام کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے تاکہ جمعۃ المبارک مل سکے۔
سفرکی ابتدا ہوئی تو وقتاً فوقتاً دل یکبارگی مارے خوشی کے زور سے دھڑکتا اور یہی سب سے پہلے خیال آتا کہ وہ مسجد، سبز گنبد، ریاض الجنت، وہ گلیاں جہاں میرے نبی ﷺ کے قدم لگے وہاں میں بھی سانس لوں گی ۔
دل چاہتا ہر سانس سے پہلے درود شریف کا تحفہ وہاں پہنچ جائے ، اور ہر درود کے ساتھ دل دیار حبیب ﷺ کی طرف ایسے ہمکتا محسوس ہوتا جیسے بچہ ماں کو دور سے دیکھ کر ہمکتا ہے۔
خواجہ صاحب ڈیڑھ سال پہلے سعودیہ آئے تھے اور راستوں سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے درمیان کئی جگہیں آئیں گی۔ مثلاً ذو الحلیفہ، بئر علی جہاں پہ مکہ جاتے ہوئے احرام باندھتے ہیں۔ یہاں صرف ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس کی دیواریں تو ہیں مگر کوئی خاص عمارت نہیں ہے۔ وہاں ایک چائے والا پاکستانی ہوٹل ہے۔
راستے میں میدان بدر بھی آئے گا۔ یہاں صرف ریت ہی ریت نظر آئے گی۔ 14 شہداء کی قبریں اور صرف ایک بورڈ "مقبرة الشهداء” لکھا ہوگا۔ اور وہ کنواں بھی جس میں کفار مکہ کی لاشیں ڈالی گئی تھیں مگر ابھی ہم وہاں نہیں رکیں گے۔
وادی الفُرع میں ایک چھوٹا سا پیٹرول پمپ ہے جس پہ بھی کوئی چھت نہیں صرف ایک لکڑی کا بورڈ ہے جس پہ "بنزین” لکھا ہوتا ہے۔
رابغ شہر ساحل کے پاس عربی چارپائیوں اور فرشی نشست والا "مطعم رابغ” ہے جہاں مچھلی، چاول اور قہوہ ملتا ہے۔ ہم نے یہاں رک کر کچھ دیر آرام کرنا ہے اور یہاں کی مچھلی اور چاول کھائیں گے۔
خواجہ صاحب نے گاڑی چلاتے ہوئے معلومات فراہم کیں۔
ہم کچھ ہی دیر میں وہاں پہنچ گئے۔ یہاں ہوا ٹھنڈی اور موسم معتدل تھا۔ یہاں رکے تو ایک گھنٹہ گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ یہاں اور بھی بسیں اور گاڑیوں کے مسافر کھانا کھانے رکے تھے ویسے بھی یہ آدھے راستے کا پڑاؤ ہے۔
آج سوچیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سفر شوق عبادت بھی تھا اور راستے کا ایڈوینچر بھی۔
سیال سونے کی بہاریں ابھی رنگ نہیں دکھا رہی تھیں۔ ترقی کا ابتدائے سفر تھا۔
رابغ سے چلے تو”مدینہ منورہ آنے والا ہے” کی خوشخبری سننے میں کئی گھنٹے لگے۔
مدینہ کا نام آتے ہی دل نرم ہو جاتا ہے۔ زبان خاموش، اور روح رب کریم کے حضور سجدے میں محسوس ہوتی ہے۔ میری زبان گنگ تھی۔ دل مسلسل حضوری چاہ رہا تھا۔ میری خاموشی اختیاری نہ تھی۔ قلب و روح کو اس آسمان تلے اور مقدس زمین کے تصور نے سکتے کی کیفیت میں مبتلا کیا ہوا تھا اور دل چاہتا تھا ہر طرف سکوت طاری ہو جائے۔
رات کو رابغ کا آسمان ستاروں سے چمک رہا تھا، رمضان المبارک کا چاند واپسی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ ہوا کی سبک رفتاری میں پراسرار سی سرگوشی تھی ایسے میں تو دل کو کائنات سے باتیں کرنا ہوتی ہیں ۔ جیسے کوئی بلا رہا ہو… "آؤ، تھکے ہوئے مسافر، یہاں سکون ہے”
تھکے ہوئے مسافرکا سوچنے پہ تصور ماضی کے ان دو مدینہ کی طرف گامزن معزز ترین مسافروں کو دیکھنے لگتا ہے جو مکہ سے یثرب کی طرف دنیا کی نئ تاریخ رقم کرنے جا رہے تھے جن کی آمد کے اہل یثرب بے تابی سے منتظر تھے۔ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ اور آپ کے رفیقِ سفر، یار غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔
’’محمد آگئے! محمد آگئے! رسول اللہ آگئے!‘‘
تصور میں وہ منظر آتے ہی دل میں روشنی سی پھوٹ پڑتی ہے اور اس دور کا مدینہ جیسے جاگ جاتا ہے ۔
مدینہ کی گلیاں، راستے، چھتیں اور کھجوروں کے باغات ایک ہی صدا سے گونج اٹھے۔ بنو نجار کی وہ کم سن بچیاں، جو آپ ﷺ کے نانا کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، خوشی میں نغمہ پڑھتی ہوئی نکل آئیں:
ہم بنی نجار کی بچیاں ہیں
محمد ﷺ کتنے پیارے ہمسائے ہیں!
گویا قُبا اور پورا مدینہ اس مبارک آمد سے جگمگا اٹھا۔ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
گویا اج بھی مدینہ کے مسافر اس خوشی کی لہر کو محسوس کر سکتے ہیں ۔۔
شاید ہر مسافر کو ہر بار سفر مدینہ میں یہ جملہ چونکا دیتا ہوگا کہ "دیکھو مدینہ منورہ قریب آگیا ہے ۔” دور سے مسجد کے مینار کی روشنی محسوس ہو رہی تھی جسم پہ لرزہ سا طاری ہونے لگا ۔”
بے اختیار درود شریف زبان پہ اگیا۔ اچانک ہی طبیعت میں بشاشت کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہوگئ اور بے ادبی کوئی گستاخی نہ ہو جائے کے احساس نےگنگ سا کردیا۔
مدینہ منورہ میں گاڑی داخل ہو چکی تھی اور جہاں ٹھہرنے کا انتظام تھا وہاں سامان رکھ کر اور وضو کرکے مسجد نبوی روانہ ہونا تھا ۔
گاڑی سے اترتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ میرے پاوں سوجے ہوئے ہیں ۔ جوتا پاؤں کو قبول ہی نہیں کر رہا ۔۔
میاں نے اس صورتحال کو دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا:
اب سمجھ میں بات ائی کہ پاؤں بھاری ہونا اس کو کہتے ہیں ۔
شاید لٹکائے رکھنے سے ایسا ہوگیا ہے۔ تھوڑا چلو گی تو ٹھیک ہو جائے گا ۔
میں نے چپل میں پاوں اٹکائے اور چلنے کی کوشش کی مگرانکھوں میں بغیر کوشش کے آنسو اگئے ۔۔
سات مہینے سے تو پاوں محاورتا بھاری ہے اس نے ابھی اس طرح ہونا تھا ۔ میں نے دل میں سوچا
میرا دل پھٹنے کو تھا۔ آہستہ آہستہ چلتے اپنے کمرے تک پہنچے ۔
"سحری کا وقت قریب ہے میں کھانا لاتاہوں تھوڑا آرام کرکے مسجد چلی جانا ۔ "
میاں کھانا لینے چلے گئے ۔ اور میں نے روتے ہوئے اپنے پاؤں سہلانا شروع کر دئے ۔
"اللہ سوہنیا! مسجد نبوی کیسے جاوں گی؟ "
مجھے نہیں علم کب مجھ پہ نیند غالب اگئ اور میاں کتنی دیر بعد واپس ائے ۔ لیکن اس چھوٹی سے نیند نے مجھے تازہ دم کر دیا اور پاوں بھی تقریبا معمول پہ اگئے تھے ۔ ہم مسجد نبوی کی طرف درود شریف پڑھتے روانہ ہوئے ۔
ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی جس میں تازگی تھی ۔ ہر گلی سے لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔
یہ ایک پر سکون فضا میں دلکش منظر تھا ۔ ایک سکینت بھرا روحانی احساس ۔۔ ہر قدم منزل مراد کے قریب کرتا ہوا۔
ان دنوں مسجد نبوی میں برامدے اور دو صحن تھے ۔ دو صحنوں کے درمیان بھی ایک برآمدہ تھا ۔
مجھے خواتین کے دروازے پہ میاں نے چھوڑا اور میں سہمی سہمی سی اندر داخل ہوئی ابھی نمازی آرہے تھے اور کافی جگہ خالی تھی ۔
چلتے چلتے میں اس مقام تک پہنچ گئ جس کو سیدہ فاطمہ کی جائے نماز کہتے ہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہاں تہجد ادا کرتی تھیں ۔
میں نے تحیہ المسجد دوگانہ اور ۔شکرانے کے نفل ادا کئے ۔ اور پھرکھڑے ہوکر درود و سلام پیش کیا کیونکہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی دو نفل ادا کئے جائیں پھر سلام پیش کیا جائے۔
مسجد نبوی کے میناروں سے اذان شروع ہوئی ان دنوں چار مینار ہوتے تھے اور ہر مینار پہ الگ موذن ہوتا تھا ۔ایک موذن اذان کے پہلے کلمات ادا کرتا پھر دوسرے مینار والا پھر تیسرا اور چوتھا ۔۔ یوں اذان دس منٹ میں مکمل ہوتی ۔ کچھ ہی عرصہ بعد یہ سلسلہ موقوف ہو گیا تھا ۔
مسجد نبوی جیسا محترم مقام، رمضان المبارک جیسا مہینہ اور جمعے کا مبارک دن اس کے ساتھ وقت سحر، واقعی سماں ” تو نور علی نور” تھا۔
اپنی دیرینہ آرزو کی تکمیل اورقبولیت دعا پہ شکر کے آنسو تھمتے نہ تھے ۔
نمازیوں سے مسجد بھر چکی تھی ۔
نماز کے بعد مواجہ شریف اور ریاض الجنت کی زیارت کو جانا تھا ۔ ان دنوں مرد و خواتین کے لیے الگ الگ حصوں کی کوئی پابندی نہ تھی صرف نماز کے وقت صفوں کی ترتیب الگ ہوتی تھی ۔
درمیانی برامدے میں نماز کے بعد میاں بیوی بچے یا زیارت کے لیے ائے خواتین و حضرات مل بیٹھتے اور یہاں سے گنبد خضری کا نظارہ کرتے تھے ۔ یہ جگہ زائرین کے لیے مقام ملاقات جیسے خود ہی طے ہو گئ تھی ۔
نماز کے بعد مجھے بھی اسی جگہ آجانے کی میاں نے تلقین کی تھی ۔
مواجہ شریف اور ریاض الجنه اور صفہ چبوترے پہ جانے کے لیے خواتین کو صرف نماز کے اوقات میں جانا منع تھا باقی اوقات میں طواف کی طرح ہر مقام سب کے لیے برابر کھلا رہتا تھا ۔
آج جمعہ اور رمضان المبارک کی وجہ سے معمول سے زیادہ زائرین موجود تھے ۔
ہم نے اشراق کی نماز کے بعد مواجہ شریف جانا تھا کیونکہ عبدالعزیز شرقی صاحب کی راہنمائی میں زیارت کرنا تھی ۔
عبدالعزیز شرقی صاحب ملتان سے ائے ہوئے ایک بزرگ تھے جن سے ہمارے بزرگوں کے اچھے تعلقات تھے اور میرے میاں صاحب سے بہت شفقت رکھتے تھے اب مدینہ منورہ میں زائرین کو مسجد اور مدینہ منورہ کی تاریخی مقامات کی زیارتیں کرواتے تھے اور عربی زبان مقامی لہجے میں بولتے عربی لباس میں عرب ہی لگتے تھے ۔
درمیانی برآمدے میں صبح کی سفیدی آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی گنبد خضری کوحقیقت میں سامنے دیکھ کر درود شریف پڑھنے کا لطف کچھ الگ ہی محسوس ہو رہا تھا ۔
اشراق کے نوافل ہم نے صفہ پہ ادا کئے ۔ وہیں بیٹھ کر ہم نے سورہ الکہف کی تلاوت کی ۔ اور پھر باب السلام کی طرف قدم بڑھائے ۔
شرقی صاحب نے وہیں ملنا تھا ۔ لوگ ایک جگہ جمع ہو رہے تھے ۔
شرقی صاحب تشریف لائے تو ان کے سربراہی میں سب
نے مواجہ شریف کی طرف قدم بڑھائے ۔ یوں محسوس ہوتا تھا یہ ایک سہانا خواب ہے ۔
ریاض الجنت سے گزر کر اس مقام عالی تک پہنچے جہاں ہر مسلمان کا دل عقیدت کی انتہا پہ ہوتا ہے ۔ شرقی صاحب نے درود و،سلام اصحاب رسول کو سلام کرنے کا طریقہ بتایا اور دعائیں دہروائیں اور ساتھ ساتھ مسجد کا تعارف دیا۔
*مسجد نبوی ﷺ کے بابرکت ستونوں کے نام اور وجہ تسمیہ بتائی ۔ اور بتایا کہ ریاض الجنۃ اور اس کے آس پاس والے ستون سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں۔ صحابہ کرام انہی ستونوں کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔
اسطوانہ عائشہ رضی اللہ عنہ
اسطوانہ تہجد
. اسطوانہ قرعہ اس ستون کے لیے قرعہ ڈال کر صحابہ نماز کے لیے جگہ لیتے تھے۔
. اسطوانہ ابو لبابہ/ توبہ
حضرت ابو لبابہؓ نے غزوہ بنی قریظہ کے بعد چھ دن یہاں توبہ میں گزارےتھے پھر اللہ نے معافی کی خوشخبری دی۔
اسطوانہ سرير
نبی ﷺ کا اعتکاف کے لیے بستر یہاں بچھتا تھا۔
اسطوانہ محرس
پہرے دار صحابہ یہاں کھڑے ہو کر نبی ﷺ کی حفاظت کرتے تھے۔
ریاض الجنۃ سے باہر چار اور مشہور ستون*
اسطوانہ وفود
مختلف قبائل کے وفد نبی ﷺ سے ملنے یہاں بیٹھتے تھے۔
اسطوانہ جبريل
کہا جاتا ہے کہ یہاں جبریل علیہ السلام وحی لے کر اترتے تھے۔
اسطوانہ حرس
یہاں پہرے دار تلواریں رکھتے تھے۔
ریاض الجنت ۔ حجرہ مبارک عائشہ رضی اللہ عنہا ، حجرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ،منبر رسول ۔ محراب رسول ۔ باب جبریل ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مبارک ۔ امہات المومنین کے حجرات ، شرقی صاحب کی آواز کے ساتھ ساتھ سیرت النبی پہ پڑھی ہوئی تفصیلات زندہ زمانے کی طرح اجاگر ہو رہی تھیں ۔
اس زمانے میں جالیوں سے اندر جھانکنے کی ممانعت نہ تھی ۔ اور نہ وقت کی پابندی تھی ۔
یہ وہ مقام تھا جس سے ہر مسلمان مرد وعورت بوڑھا بچہ اپنے دل کی کیفیت ناقابل بیان عقیدت، محبت اور خوشی سے معمورپاتا ہے ۔
جالی کے دروازے پہ نام مبارک لکھے تھے اور بڑے سوراخ بھی تھوڑے فاصلے پہ نمایاں تھے ۔ اسی ترتیب سے سلام پیش کیا امام الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم، یار غار ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اوروہ خوش قسمت ہستی عمر رضی اللہ عنہ جس کے لیے نبی اکرم نے اپنے رب سے خصوصی طور پہ دعا کی ۔ اس مقام پہ قدم ہمیشہ ہی جم جاتے ہیں نگاہیں جھک جاتی ہیں آواز پست ہو جاتی ہے بس دل کی اپنی زبان ہوتی ہے اور آنسو اس زبان کے ترجمان ہو جاتے ہیں ۔
السلام علیک یا رسول اللہ یا حبیب اللہ ۔ السلام علیک یا نبی اللہ ،انت حبیبی و طبیب قلبی
کہتے ہی مجھے اپنے بچپن کی وہ کیفیت یاد اگئ اوراس پہلی حاضری کے بعد جب بھی مسجد نبوی آنے کی سعادت ملی تو اکثر ہی یاد اجاتی ہے اور اللہ تعالی سے التجا کرتی ہوں کہ یا اللہ ! اس پہلی محبت کو قبول فرمالے۔
بہت کم عمری کے زمانے کی بات ہے جس دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخری وقت کی بیماری، سر درد اور تکلیف کا حال پڑھا مجھ پہ اس قدر گریہ طاری ہوا جیسے میں اپنی انکھوں سے دیکھ اور محسوس کر رہی ہوں ۔ رسول اللہ کے دنیا سے رخصت ہونے کی خبر میرے لیے اس قدر صدمے کا باعث بنی تھی گویا میں اس وقت موجود تھی مجھے محسوس ہوا غم سے میرا دل پھٹ جائے گا اور جب بھی مجھے وہ وقت یاد آتا میں چھپ چھپ کر رویا کرتی کہ کسی نے پوچھ لیا تورونے کی کیا وجہ بتاوں گی ۔ بچپن سے ہی کسی کے سامنے رونا آتا بھی تو میں نہ جانے کیوں اور کیسے ضبط کر لیتی تھی شاید میری صابرہ نانی اور ماں کی تربیت اور دعاوں کا اثر تھا ۔
اور آج مجھے رسول اللہ کے حجرہ مبارک کے سامنے کھڑے ہوکر رونا تھا اور بہت رونا تھا لیکن مردوں کے درمیان کھڑے ہوکر میں نے اپنے اوپر جبر کر لیا کہ آواز نہ نکلے اور دل سے اٹھتی برسات انکھوں سے بہتی رہی ۔
ان دنوں دو نمازوں کے دوران مرد و خواتین جس مبارک مقام پہ چاہیں بیٹھیں ۔ تلاوت کریں ۔ نفل ادا کریں۔ ذکر کریں ۔ الحمدللہ کہ اس رب کریم نے وہ سہانا وقت نصیب فرمایا تھا۔
شرقی صاحب نے تقریبا دو گھنٹے میں مسجد نبوی کی زیارت کروائی معلومات اور محبت کے جذبے کے ساتھ ۔ اور کبھی اپنا نعتیہ کلام بهی پیش کرتے۔ یہ ان کی مسجد نبوی اور اپنے آقا سے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ انہوں نے مدینہ منورہ سے باہر جانا ایک دن کے لیے بھی گوارا نہ کیا کہ جانے کب بلاوا جائے اور مجھے تو دیار حبیب کی اسی مٹی میں دفن ہونا ہے ، جنت البقیع میں دفن ہونے کا شرف پانا ہے اللہ تعالی نے ان کی مراد پوری فرمائی اللہ تعالی ان کی کامل مغفرت فرمائے آمین ۔
جب شرقی صاحب دوسرے گروپ کی طرف متوجہ ہوئے تو میں نے دوبارہ سے سارا عمل دہرایا اپنی کوکھ میں موجود ننھے وجود کے ساتھ ۔ اس کے ساتھ سلام پیش کرنا ، محبت سے رونا اس آنے والے مہمان کے لیے دعائیں کرنا ۔ والدین بہن بھائیوں اساتذہ کرام سب رشتہ داروں کی طرف سے سلام پیش کرنا ۔ یہ وہ لمحات تھے جو میرے ذاتی تھے اس مقدس مقام پہ دل کی گہرائیوں سے تشکر کے احساسات کے ساتھ ۔ شاید یہ لمحات زندگی کے انمول نگینے تھے جن سے میری زندگی میں جگمگاہٹ قائم ہے ۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مبارک قیام گاہ کے سامنے کھڑے ہوکر” مادراں را اسوہ کامل بتول ” کے تحت اچھی ماں بننے کی دعا کی ۔ سیدہ فاطمہ کی معیت میں رہنے کی دعا کی ۔
اے اللہ ! اگر مجھے بیٹی کی شکل میں رحمت سے نوازنا ہے تو وہ فاطمہ جیسی ہو اگر بیٹا ہو تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹوں جیسا ہو ۔
یارب! مجھے ان سب صالحین کا قرب عطا فرمانا آمین
انکھیں برکھا برسا رہی تھیں ۔
دل چاہا کہ وقت تھم جائے شاید یہی وقت قبولیت کا ہے ۔
یہی سوچتے میں اس متعین جگہ پہ اگئ جہاں میاں نے آنے کو کہا تھا ۔
مسجد نبوی میں دھوپ پھیل چکی تھی اور اس کی حدت میں تیزی آرہی تھی ۔ درمیان والے برآمدے میں دھوپ تیز ہوگئ تھی ۔میں وہاں سے اٹھ کر دیوار کے ساتھ بیٹھ گئ ۔
جمعہ کی نماز کے لیے دو اذانیں ہوتی ہیں۔
نماز کے بعد میں دوبارہ درمیانی برآمدے میں اگئ کیونکہ یہی سب کا مقام ملاقات ہوتا تھا ۔
میں نے میاں کو اپنی طرف آتے دیکھا اورہم الوداعی سلام پیش کرکے باب النساء سے باہر اگئے ۔
اف! یہ الوداعی سلام ! مسجد نبوی میں داخل ہوکر سلام پیش کرنے اور مسجد سے باہر نکلتے الوداعی سلام پیش کرنے میں کتنا جذباتی فرق ہوتا تھا اور یہ ہمیشہ رہا اور آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔
الوداع ! یا حبیبی یا رسول اللہ!
کہنا زندگی کا سب سے مشکل الوداعی جملہ رہا اور رہے گا ۔۔
زیارتوں کے لیے ان شاءاللہ کل چلیں گے ۔ میاں نے اطلاع دی ۔
جی ان شاءاللہ ۔۔
شام کوعصر کے بعد افطاری سے کچھ پہلے ہم مسجد نبوی آگئے ۔ ساتھ افطاری کے لیے کھجور سمولی اور قشطہ ( کریم) کا پیکٹ تھا ۔ان دنوں حرم نبوی میں کھانے پینے اور آرام کرنے پہ پابندی نہ تھی ۔
مدینہ کے باسی انصار مدینہ کی مثال بنے زائرین میں کھانے پینے کی اشیاء اصرار سے تقسیم کرتے ۔
افطاری کے وقت سب مل کر روزہ افطار کرتے ۔ بہت سادہ ماحول ہوتا۔ نہ ہی تکلف میزبانوں میں نہ مہمانوں میں ۔ افطاری اور نماز کے بعد اکثر زائرین مسجد میں ہی رہتے یا گھر بھی چلے جاتے رہائش گاہیں مسجد سے بہت دور نہیں ہوتی تھیں اس لیے مغرب کےبعد ،عشاء کی نمازکے لیے دوبارہ آجاتے تھے ۔ نماز کے وقت دکانیں کھلی چھوڑ کر سب دوکان دار مسجد نبوی پہنچ جاتے تھے ۔ سادہ اور آسودہ مدینہ منورہ جیسے چودہ سو سال پہلے والے مدینہ سے کوئی کڑی ملی ہوئی ہو۔
تراویح کے لیے ہم اپنے ٹھکانے سے نکلے ارد گرد کے سب لوگ کسی غیر مرئ کشش سے مسجد کی طرف کھچے جا رہے تھے ۔
باب النساء کے پاس ہی میں اندر جا کر بیٹھ گئ ۔ اذان کی آواز سے پوری مسجد میں سحر طاری ہوگیا اذان کے کلمات کے جواب میں نمازیوں کے دہراتے کلمات اور پنکھوں کی آواز یوں محسوس ہو رہے تھے جیسے فرشتوں کے پروں کی سرسراہٹ ہو۔
مکہ مکرمہ کی تراویح میں بیت اللہ کی ہیبت مسلمان پہ خشیت اور ہیبت طاری کرتی ہے مدینہ منورہ میں امام صاحب کی آواز میں ایسی کیفیت تھی جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت نصیب ہو ۔ رب العالمين نے ہم پہ احسان کیا کہ انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے انسان ہی منتخب کئے عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ اپنائیت کا رنگ انسان کو جلدی قرب کی منزلیں طے کروا دیتا ہے۔
مسجد نبوی کی نماز تراویح میں سیرت کے صفحات اجاگر ہوتے ہیں ۔صحابہ کرام کی معاشرت دائیں بائیں محسوس ہونے لگتی ہے ۔ جیتا جاگتا قرانی معاشرہ تصور میں آجاتا ہے ۔
نماز تراویح ادا کرکے تھوڑا انتظار کیا اورریاض الجنت میں جا کر الوداعی سلام پیش کیا اور گھر اگئے۔
1977 میں مسجد نبوی کے امام کے نام سے واقفیت نہ تھے لیکن جلد ہی امام علی عبدالرحمان الحذیفی کی آواز سے مانوس ہوگئے اور پھر وہ آواز میرے شب و روز میں دکھ سکھ کی ساتھی رہی ان کی تلاوت سننامیری زندگی کا لازمی حصہ رہا اور آج بھی ہے ۔
پہلے پہل امام الحذیفی کی قران کیسٹس خریدیں پھر سی ڈی۔ اور اب موبائل پہ حرمین کے سب امام موجود ہیں ۔ سبحان اللہ
1978 کے بعد توسیع حرمین کا عمل شروع ہوا اوربارہ سال میں اوسطا سال میں اٹھ سے دس مرتبہ زیارت مسجد نبوی کی سعادت ملتی رہی اور ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ وسعت اور جدت نظرآتی یہاں تک کہ مسجد نبوی کو پورے مدینہ النبوی پہ محیط کر دیا گیا ۔
