ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ: طب، ادب اور سماجی خدمت کا منفرد امتزاج
ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور ماہرِ امراضِ نسواں کی ادبی خدمات، تخلیقی سفر اور خواتین کی ترقی کے لیے کردار پر خصوصی رپورٹ
پاسبان نیوز
ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی شخصیت میں طب، ادب اور سماجی خدمت کے مختلف رنگ یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے ماہرِ امراضِ نسواں، جب کہ ذوق و شوق کے حوالے سے شاعرہ، افسانہ نگار، ناول نگار اور نثر نگار کی حیثیت سے انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ ان کی تخلیقات میں محبت، جدائی، انسانی احساسات، عورت کی داخلی دنیا اور معاشرتی رویّوں کی عکاسی نمایاں ہے۔ طبی ذمہ داریوں کے ساتھ ادبی سرگرمیوں اور سماجی خدمات کا تسلسل ان کے متنوع کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
پاسبان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے اپنی ابتدائی زندگی، تعلیمی سفر، ادبی تجربات، شاعری کے موضوعات، طبی خدمات، خواتین کی ترقی اور اردو ادب کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
طب کی تعلیم سے ادب کے سفر تک
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان سے ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد نشتر میڈیکل کالج ملتان سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مطابق علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے اور اسے زندگی کے مسائل سمجھنے کے ساتھ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ طب اور ادب بظاہر دو مختلف شعبے ہیں، لیکن دونوں کا بنیادی تعلق انسان، اس کے دکھوں، خوشیوں اور زندگی کے تجربات سے ہے۔ ڈاکٹر کی حیثیت سے مریضوں کی دیکھ بھال ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، جب کہ ادب انہیں اپنے احساسات، مشاہدات اور خیالات کے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ان کے نزدیک انسانی زندگی کے تجربات، رشتوں کی پیچیدگیاں، معاشرتی رویّے اور روزمرہ مشاہدات تخلیقی اظہار کی بنیاد بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے باوجود انہوں نے ادب سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔
شاعری میں محبت، جدائی اور انسانی احساسات
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی شاعری میں محبت، جدائی، تنہائی، زندگی کی ناپائیداری اور انسانی جذبات کے مختلف پہلو نمایاں ہیں۔ وہ محبت کو محض رومانوی جذبہ نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی تجربہ قرار دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک جدائی صرف کسی شخص سے دوری کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات انسان اپنے خوابوں، خواہشوں اور گزرے ہوئے وقت سے بھی بچھڑنے کا احساس کرتا ہے۔
ان کی شاعری میں درد اور اداسی کا عنصر بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق محرومی، ناکامی، تنہائی اور جدائی انسانی زندگی کے ایسے تجربات ہیں جنہیں حساس طبیعت رکھنے والا شخص زیادہ گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ تاہم، وہ درد کو محض اداسی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتیں، بلکہ اسے اپنے باطن میں جھانکنے اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کا موقع قرار دیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شاعری کی خوبی یہ ہے کہ شاعر کا ذاتی تجربہ اجتماعی احساس میں ڈھل سکتا ہے اور قاری کو اپنے ہی جذبات کی جھلک کسی دوسرے کے الفاظ میں دکھائی دینے لگتی ہے۔
ان کے معروف اشعار بھی اسی داخلی کیفیت اور زندگی کے تجربات کی ترجمانی کرتے ہیں:
چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے۔۔۔
ایک اور شعر میں محبت، اعتماد اور محرومی کی کیفیت سامنے آتی ہے:
افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں۔۔۔
جس کے لیے فلک سے اُتاری گئی ہوں میں۔۔۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے مطابق ان اشعار میں ماضی کے دکھوں، ٹوٹتی توقعات اور زندگی کے سفر کے حوالے سے سوالات کی کیفیت موجود ہے۔ ان کے نزدیک مؤثر شاعری وہی ہے جو الفاظ سے آگے بڑھ کر قاری کے احساسات کو چھو لے۔
عورت کی آواز اور اس کے تجربات
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ عورت کے تجربات اور اس کی داخلی دنیا کو ادب کا اہم موضوع سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق عورت بیٹی، بہن، بیوی، ماں اور پیشہ ور فرد سمیت زندگی کے مختلف کرداروں میں خوشیوں، محرومیوں، خوابوں اور ذمہ داریوں سے گزرتی ہے۔ ادب اسے اپنے تجربات اور احساسات بیان کرنے کا مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
وہ اس تصور سے اتفاق نہیں کرتیں کہ عورت کی شاعری کو صرف نسوانی جذبات تک محدود کر دیا جائے۔ ان کے نزدیک عورت بھی زندگی، سماج، سیاست، انسانیت، محبت، وقت اور کائنات کے بارے میں وسیع نقطۂ نظر رکھتی ہے۔
خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ تعلیم عورت کو اپنے حقوق اور صلاحیتوں کا شعور دیتی ہے، جب کہ معاشی خودمختاری اسے زندگی کے فیصلوں میں اعتماد فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہییں، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا سکیں۔
نو کتابیں اور متنوع ادبی کاوشیں
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی ادبی کاوشوں میں شاعری کے ساتھ نثر بھی شامل ہے۔ فراہم کردہ انٹرویو کے مطابق ان کی نو کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن میں پانچ شعری مجموعے شامل ہیں:
- پھول سے بچھڑی خوشبو — 2007ء
- میں آنکھیں بند رکھتی ہوں — 2010ء
- اور شام ٹھہر گئی — 2013ء
- پھول، خوشبو اور تارا — 2016ء
- میرا صاحب، سائیں عشق ہے تو — 2022ء
ان کے دیگر نثری اور تخلیقی کاموں میں میں اور یہ جہاں، سوچ کا سفر، گردِ سفر اور یہ جہاں، رنگ و بو شامل ہیں۔
شاعری اور نثر کے فرق پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ شاعری میں کم سے کم الفاظ کے ذریعے زیادہ احساس اور معنی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جب کہ نثر میں خیال کو تفصیل سے بیان کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ ناول نگاری کے ذریعے کرداروں، حالات اور واقعات کی مدد سے زندگی کی مختلف پرتوں کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔
ان کے نزدیک کسی بھی ادبی صنف میں اصل اہمیت فکری معنویت، انسانی سچائی اور ادبی تاثیر کی ہے۔
پاکستانی اور بین الاقوامی جامعات میں تحقیقی کام
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی شخصیت اور شاعری پر مختلف جامعات میں تحقیقی کام بھی کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، نواز شریف یونیورسٹی ملتان اور غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف اداروں میں ان کی ادبی تخلیقات کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا گیا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی شاعری کو توجہ حاصل ہوئی۔ انٹرویو میں بتایا گیا کہ مصر کی جامعۃ الازہر میں ان کے شعری مجموعے ’’اور شام ٹھہر گئی‘‘ کا عربی ترجمہ ڈاکٹر تغرید البیونی نے کیا، جب کہ ان کے مجموعے ’’پھول، خوشبو اور تارا‘‘ پر مصر میں ایم فل کی سطح پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا گیا۔
اسی طرح بھارت کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ان کی شاعری پر پی ایچ ڈی کی سطح کا تحقیقی کام مکمل ہونے کا ذکر بھی کیا گیا۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے نزدیک کسی ادیب کے کام کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ہونا اور اس پر اعلیٰ تعلیمی سطح پر تحقیق کیا جانا اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اس کی تخلیقات نئے قارئین اور محققین تک پہنچیں۔ وہ اسے زبان اور جغرافیے کی حدود سے آگے ادب کی رسائی کا ایک اہم پہلو قرار دیتی ہیں۔
شاعری سے موسیقی تک
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے کلام کو موسیقی کے ذریعے بھی پیش کیا گیا ہے۔ انٹرویو کے مطابق ان کے کلام پر دو میوزک البمز ریلیز ہوئے، جن میں ایک علی میوزک پروڈکشن پاکستان اور دوسرا برطانیہ کی کمپنی ہائی ٹیک کے ذریعے لندن میں پیش کیا گیا۔
ان کے کلام کو آواز دینے والے گلوکاروں میں انور رفیع، حنا نصراللہ، صائمہ جہاں، شانی انور، ساجد حسن اور شمیم خلیق کے نام شامل ہیں۔
ان کے مطابق شاعری اور موسیقی کا تعلق گہرا ہے۔ مناسب دھن اور آواز کے ساتھ شعر کا احساس سامع تک ایک مختلف انداز میں پہنچتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ ایک خوش آئند تجربہ ہے کہ شاعری کتاب کے صفحات سے نکل کر موسیقی کے ذریعے بھی لوگوں تک رسائی حاصل کرتی ہے۔
طب کے شعبے میں خدمات
ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ طبی شعبے میں بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انٹرویو کے مطابق وہ جان سرجیکل ہسپتال، بلاک 48، کنگن روڈ، ڈیرہ غازی خان میں بطور ایڈمنسٹریٹر اور گائناکالوجسٹ وابستہ ہیں۔
وہ خصوصاً خواتین کی صحت کے حوالے سے آگاہی، بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویّے کو اہم قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق مریض صرف طبی مسئلہ لے کر نہیں آتا، بلکہ اس کے ساتھ جذبات، خدشات، خاندانی حالات اور زندگی کی دیگر ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ اس لیے طبی مہارت کے ساتھ انسانی ہمدردی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
سماجی اور ادبی اداروں سے وابستگی
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ مختلف ادبی، سماجی اور فلاحی اداروں کے ساتھ بھی وابستہ رہی ہیں۔ انٹرویو کے مطابق وہ انجمن آنچل کی صدر ہیں اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے ادبی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ وہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان کی سابق نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔
ان کے دیگر ادارہ جاتی کرداروں میں بین الاقوامی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی تنظیم کے جنوبی پنجاب ویمن ونگ کی چیئرپرسن، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کی اسکرونٹی کمیٹی کی سابق رکن اور اکادمی ادبیات ملتان کی آرگنائزنگ کمیٹی کی سابق رکن کی حیثیت سے خدمات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ وہ انسدادِ منشیات کمیٹی ڈیرہ غازی خان کی اعزازی رکن، ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان کے بورڈ آف مینجمنٹ کی رکن، المنصور آئی ٹرسٹ کی ایگزیکٹو رکن، کامرس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی رکن اور غازی یونیورسٹی کی اسکالرشپ ایوارڈ کمیٹی کی رکن بھی رہی ہیں۔
انٹرویو میں ماڈل چلڈرن ہوم، محکمہ ڈیرہ غازی خان کی مشاورتی کمیٹی کی چیئرپرسن اور جم خانہ کلب ڈیرہ غازی خان کے بورڈ آف گورنرز کی اعزازی رکن کی حیثیت سے ان کی وابستگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے مطابق معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے ہر شخص کو اپنی صلاحیت، تجربے اور وقت کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔
ادبی اداروں اور اردو ادب کو درپیش چیلنجز
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے نزدیک ادبی تنظیموں کی ذمہ داری صرف تقریبات منعقد کرنا نہیں، بلکہ تخلیق کاروں کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنا بھی ہے جہاں وہ اپنا کام پیش کر سکیں، ایک دوسرے سے سیکھیں اور قارئین تک پہنچیں۔
وہ سمجھتی ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود اچھا کام کرنے والے اہلِ قلم کو مناسب پلیٹ فارم، معیاری تنقید، کتابوں کی اشاعت، تحقیقی سہولتوں اور ادبی مکالمے کے مواقع درکار ہیں۔ ان کے مطابق نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ادب میں معیار و مطالعے کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے۔
موجودہ دور میں اردو ادب کو درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مطالعے کی عادت میں کمی، کتابوں تک محدود رسائی، معیاری تنقید کے فقدان اور ادبی سرگرمیوں کے لیے محدود وسائل کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا نے اظہار اور اشاعت کے نئے مواقع ضرور پیدا کیے ہیں، تاہم معیاری ادب اور سطحی مواد کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو معیاری ادب، تحقیق اور مطالعے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ نئی نسل اچھی کتابوں اور سنجیدہ ادبی روایت سے متعارف ہو سکے۔
نئی نسل کے لکھنے والوں کے لیے پیغام
نوجوان شاعروں اور لکھنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے مطالعے، مشاہدے، مستقل مزاجی اور نظرثانی کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق صرف لکھنا کافی نہیں، بلکہ اچھا لکھنے کے لیے پڑھنا، غور کرنا اور اپنی تخلیق کو بہتر بنانے کی کوشش بھی ضروری ہے۔
وہ فوری شہرت کے بجائے معیار اور محنت کو ترجیح دینے کی قائل ہیں۔ ان کے نزدیک نئے لکھنے والوں کو دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی منفرد آواز تلاش کرنی چاہیے اور تنقید کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اپنی تخلیق بہتر بنانے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
ایک اچھے شاعر کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے انہوں نے حساسیت، مشاہدے، مطالعے، زبان پر گرفت اور فنی شعور کو بنیادی اہمیت دی۔ ان کے مطابق شاعری میں جذبہ ضروری ہے، لیکن خیال کی ترتیب، الفاظ کا مناسب انتخاب اور اظہار کی تاثیر بھی تخلیق کو مضبوط بناتے ہیں۔
ادبی و سماجی اعزازات اور خواتین کی معاشی ترقی
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کو انٹرویو میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق مختلف ادبی اور سماجی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں خوشبو رائٹرز ایوارڈ، بے نظیر بھٹو ایوارڈ، ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی اور ساؤتھ پنجاب لٹریری ایوارڈ شامل ہیں۔ پرائیڈ آف پرفارمنس کے لیے نامزدگی اور غور کیے جانے کے مراحل کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
وہ اعزازات کو حوصلہ افزائی کا ذریعہ قرار دیتی ہیں، تاہم ان کے نزدیک کسی بھی تخلیق یا سماجی کام کی حقیقی قدر اس کے اثرات اور اس سے وابستہ لوگوں کے تجربات سے متعین ہوتی ہے۔
خواتین کی پیشہ ورانہ اور کاروباری ترقی کے حوالے سے انٹرویو میں بتایا گیا کہ وہ ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈیرہ غازی خان کے ایگزیکٹو بورڈ کی اعزازی رکن کی حیثیت سے 2024ء تا 2026ء وابستہ رہیں، جب کہ 2026ء تا 2027ء کے لیے سینئر نائب صدر، ایگزیکٹو بورڈ کی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا گیا۔
ان کے مطابق ایسے ادارے خواتین کو کاروباری سرگرمیوں، رابطہ کاری، تجربات کے تبادلے اور معاشی ترقی کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہیے اور معاشرے کو بھی ان کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
کتاب، زبان اور انسانی احترام کا پیغام
گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ نے قارئین اور اردو ادب سے محبت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کتاب سے رشتہ مضبوط رکھنے، اپنی زبان سے محبت کرنے اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق اختلافات کے باوجود احترام، برداشت اور ہمدردی معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ادب انسان کو اپنے باطن سے ملاقات کا موقع دیتا ہے اور اسے دوسروں کے دکھ سمجھنے، ان کی خوشیوں میں شریک ہونے اور انسانی وجود کا احترام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا سفر اس تصور کو نمایاں کرتا ہے کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں، تخلیقی اظہار اور سماجی خدمت ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ طب کے ذریعے انسانی صحت سے وابستگی، شاعری اور نثر کے ذریعے احساسات کا اظہار، اور ادبی و سماجی اداروں میں شرکت ان کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔ ان کا پیغام علم، مطالعے، انسانی ہمدردی اور تخلیقی سچائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
