پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات: تاریخی دوستی، اسٹریٹجک شراکت داری اور ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کی سفارتی خدمات
خصوصی مضمون | پاسبان نیوز
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مسلم دنیا کے ان دیرینہ تعلقات میں شمار ہوتے ہیں جن کی بنیاد مشترکہ تاریخ، ثقافتی قربت، باہمی احترام اور مشکل اوقات میں ایک دوسرے کی حمایت پر قائم ہے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں میں سفارت کاری، دفاع، تجارت، تعلیم، ثقافت اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔
اس وقت پاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو (Dr. İrfan Neziroğlu) ہیں، جو 2024 میں اسلام آباد میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کی سفارتی ترجیحات میں اقتصادی تعاون، دفاعی روابط، تعلیمی تبادلے، ثقافتی تعلقات اور عوامی سطح پر رابطوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو موجودہ دور میں ایک ایسے مرحلے پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں تاریخی دوستی کو ٹھوس اقتصادی نتائج، مشترکہ سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے تعاون میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا تاریخی پس منظر
پاکستان اور ترکیہ کے سفارتی تعلقات 30 ستمبر 1947 کو قائم ہوئے۔ ترکیہ ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے بعد اس کے ساتھ سفارتی روابط قائم کیے۔ ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے جنگِ آزادیِ ترکیہ کے دوران کی جانے والی حمایت دونوں قوموں کے تاریخی تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ روابط حکومتی تعلقات سے آگے بڑھ کر عوامی سطح پر بھی مضبوط ہوئے۔ قدرتی آفات، انسانی بحرانوں اور بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک نے متعدد مواقع پر ایک دوسرے کی حمایت کی۔
2009 میں اعلیٰ سطحی تعاون کونسل قائم کی گئی، جسے بعد میں اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل (High-Level Strategic Cooperation Council) کی صورت میں مزید منظم کیا گیا۔ اس ادارہ جاتی فریم ورک کا مقصد مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو باقاعدہ سمت دینا ہے۔
ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو: تعارف اور علمی پس منظر
ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو 20 جنوری 1966 کو ترکیہ کے شہر آقچہ آباد، ترابزون میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر قانون، پارلیمانی امور، سیاسی اداروں اور سفارت کاری سے وابستہ ہے۔
انہوں نے 1991 میں مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی، انقرہ سے بین الاقوامی تعلقات میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ 1994 میں اسی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، 2001 میں برطانیہ کی ایسیکس یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز (LLM) اور 2002 میں سلجوک یونیورسٹی سے سماجی علوم میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ 2015 میں انہیں سیاسی زندگی اور اداروں کے شعبے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کا اعزاز بھی ملا۔
ان کی تعلیمی قابلیت اور قانون و پارلیمانی اداروں میں طویل تجربہ ان کی پیشہ ورانہ شناخت کے اہم پہلو ہیں۔ ان کی کتابوں میں ترک پارلیمانی قانون کے بنیادی تصورات، پارلیمانی اصطلاحات کی لغت، ترکیہ میں فوجی مداخلتیں اور ذرائع ابلاغ، اور قانون سازی سے متعلق ایک رہنما کتاب شامل ہیں۔
پارلیمانی خدمات سے سفارت کاری تک
ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کا پیشہ ورانہ سفر ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے 1992 میں لائبریری، دستاویزات اور ترجمے کے شعبے میں محقق کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد ازاں انسانی حقوق کمیٹی میں قانون سازی کے ماہر، قوانین و قراردادوں کے ڈائریکٹر جنرل، ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور 2011 میں اسمبلی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 2016 میں انہوں نے اسپیکرِ اسمبلی کے چیف مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
2017 میں انہیں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ترکیہ کا سفیر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں 2022 میں ترکیہ کی وزارتِ خارجہ میں انتظامی و مالی امور کے ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 2024 میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر مقرر ہوئے۔
ان کے کیریئر میں پارلیمانی انتظام، قانون سازی، انسانی حقوق، سفارتی نمائندگی اور حکومتی انتظام کے شعبوں کا امتزاج نمایاں ہے۔ یہ تجربہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سیاسی روابط کے ساتھ ادارہ جاتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔
سفیر ڈاکٹر عرفان کی پاکستان میں نمایاں سرگرمیاں
1۔ دفاعی اور صنعتی تعاون
اپریل 2025 میں ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو نے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔ پاکستانی حکام نے ترکیہ کی دفاعی صنعت میں پیش رفت کو سراہا اور دفاعی پیداوار میں تکنیکی تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعلقات میں تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی اور مشترکہ منصوبوں کو اہمیت حاصل ہے۔ اپریل 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی فوجی مذاکرات کے 20ویں دور میں علاقائی سلامتی، عسکری تعاون، دفاعی صنعت، تربیت اور استعداد بڑھانے کے امور زیر بحث آئے۔
2۔ قدرتی آفات اور انسانی ہمدردی
اپریل 2025 میں ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو نے پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا دورہ کیا، جہاں انہیں قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کی صلاحیتوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے جدید نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر انہوں نے قدرتی اور انسانی ساختہ آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تکنیکی تعاون، استعداد کار میں اضافے اور خطرات میں کمی کے اقدامات پر تعاون کی حمایت کی۔
یہ تعاون اس لیے اہم ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں زلزلوں، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات سے متاثر ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے تجربات کا تبادلہ، ابتدائی وارننگ سسٹم، امدادی منصوبہ بندی اور تربیت انسانی جانوں کے تحفظ میں مدد دے سکتے ہیں۔
3۔ تعلیم، زبان اور ثقافتی روابط
ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کی سفارتی سرگرمیوں میں تعلیم اور ثقافت بھی نمایاں ہیں۔ جون 2026 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے منعقد ہونے والے دو ہفتوں کے ترک سمر کیمپ کی اختتامی تقریب میں انہوں نے شرکت کی۔
اس پروگرام میں 30 طلبہ نے ترکی زبان اور ثقافت کی تربیت مکمل کی۔ سفیر نے پاکستانی طلبہ کے لیے ترکیہ میں اعلیٰ تعلیم اور وظائف کے مواقع کا ذکر کیا اور ترکی زبان، ادب اور ثقافت کے مطالعے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایسے تعلیمی و ثقافتی پروگراموں کو پاکستان کے دیگر علاقوں تک وسعت دینے کی حمایت بھی کی۔
تعلیمی تبادلے دونوں ممالک کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کی زبان، معاشرت اور علمی روایات سے روشناس کراتے ہیں۔ طویل مدت میں یہ روابط تحقیق، جامعات کے درمیان اشتراک اور پیشہ ورانہ مواقع کے لیے بنیاد بن سکتے ہیں۔
4۔ تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ
فروری 2026 میں سینیٹ آف پاکستان سے وابستہ نمائندوں اور ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کے درمیان ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ سفیر نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس کے بعد جولائی 2026 میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور کاروبار سے کاروبار (B2B) روابط کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
یہ ہدف دونوں ممالک کے لیے ایک اہم اقتصادی سمت فراہم کرتا ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے تجارتی رکاوٹوں میں کمی، کاروباری وفود کے تبادلے، مشترکہ منصوبوں اور برآمدات میں اضافے پر مسلسل کام کرنا ہوگا۔
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں موجودہ ترجیحات
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات اب روایتی سفارتی اور دفاعی تعاون سے آگے بڑھ کر ایک وسیع اقتصادی شراکت داری کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے چند شعبے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں:
- تجارت و سرمایہ کاری: دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف اور نجی شعبے کی شمولیت۔
- دفاعی پیداوار: مشترکہ منصوبے، جدید ٹیکنالوجی، عسکری تربیت اور دفاعی صنعت میں تعاون۔
- تعلیم و تحقیق: وظائف، جامعات کے درمیان روابط، طلبہ کے تبادلے اور ترکی زبان کی تعلیم۔
- توانائی و صنعت: صنعتی تعاون، قابلِ تجدید توانائی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع۔
- ثقافت و سیاحت: عوامی روابط، ثقافتی پروگراموں اور سیاحتی تبادلوں میں اضافہ۔
ان ترجیحات پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک کے سرکاری اداروں، جامعات، کاروباری تنظیموں اور نجی کمپنیوں کے درمیان رابطہ کاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
سفیر ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کی سفارتی ذمہ داریوں کا اہم پہلو
18 ستمبر 2026 کو پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کے درمیان ملاقات ہوئی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، ملاقات میں خطے کی بدلتی صورت حال اور دوطرفہ ادارہ جاتی تعاون میں پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے مسائل کے حل اور دیرپا امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ ملاقات اس بات کی مثال ہے کہ سفیر کا کردار صرف رسمی تقریبات تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان رابطے، پالیسی مذاکرات، تجارتی تعاون اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کی پارلیمانی، قانونی اور سفارتی مہارت ان ذمہ داریوں کے لیے ان کے پیشہ ورانہ پس منظر کا حصہ ہے۔ تاہم، ان کی خدمات کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے عملی تجارتی نتائج، مکمل ہونے والے منصوبوں، تعلیمی تعاون اور ادارہ جاتی پیش رفت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہوگا۔
اختتامیہ: دوستی سے مشترکہ خوشحالی تک
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات تاریخ، ثقافت، باہمی احترام اور مشکل حالات میں تعاون کی ایک مضبوط روایت رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں ان تعلقات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تاریخی قربت کو تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاعی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی میں قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستان میں ترکیہ کے موجودہ سفیر ڈاکٹر عرفان نیازی اوغلو کا پیشہ ورانہ سفر پارلیمانی امور، قانون، حکومتی انتظام اور سفارت کاری کے مختلف مراحل پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں ان کی سرگرمیوں میں دفاعی تعاون، قدرتی آفات سے نمٹنے میں اشتراک، تعلیمی و ثقافتی روابط اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینا نمایاں ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے لیے آئندہ مرحلے کا اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی تاریخی دوستی کو کس طرح زیادہ تجارت، مشترکہ صنعتی پیداوار، بہتر تعلیمی مواقع اور روزگار کی تخلیق میں بدل سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سفارتی روابط کے ساتھ نجی شعبے کی فعال شمولیت، مستقل پالیسیوں اور عملی منصوبوں کی تکمیل ضروری ہے۔
پاسبان نیوز کا نقطۂ نظر: پاکستان اور ترکیہ کی دوستی دونوں ممالک کا ایک اہم سفارتی سرمایہ ہے۔ اس سرمایہ کو مضبوط بنانے کا مؤثر راستہ یہ ہے کہ باہمی اعتماد کو تجارت، علم، ٹیکنالوجی، ثقافت اور عوامی فلاح کے ایسے منصوبوں میں تبدیل کیا جائے جن کے فوائد دونوں ممالک کے عوام تک پہنچیں۔
