10 اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کا مبینہ ’اغوا‘: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنے ہی صوبے میں بے بس کیوں نظر آ رہے ہیں؟

اسلام آبادپاکستانتازہ ترینشخصیات
PTI missing members

مضمون کی تفصیل

    ’نو اکتوبر کی رات گیارہ بجے کا وقت تھا جب اچانک نامعلوم افراد حجرے کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوئے، وہاں توڑ پھوڑ کی اور پھر ڈاکٹر امجد کو اپنے ساتھ اغوا کر کے لے گئے۔‘

    یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد کے بھانجے کاشف علی کا، جن کے مطابق انھیں نہیں معلوم کہ گھر میں زبردستی داخل ہونے والے کون لوگ تھے کیونکہ انھوں نے نقاب کیے ہوئے تھے۔

    صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کے بھائی وقار خان نے بتایا کہ انھوں نے اپنے بھائی کے مبینہ اغوا سے متعلق پولیس کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ اس واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ وہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے درخواست جمع کروائیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق ڈاکٹر امجد کے مبینہ اغوا کے بعد اُن کی جماعت کے اراکین صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور صوبائی وزرا کی تعداد 10 ہو چکی ہیں جنھیں گذشتہ دنوں کے دوران اسی انداز میں نامعلوم افراد کی جانب سے اٹھایا گیا ہے۔

    اِن دس اراکین میں سے بیشتر کو نامعلوم نقاب پوش افراد کی جانب سے اٹھائے جانے کی ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہیں اور اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواستیں بھی دی گئی ہیں۔

    جن وزرا اور اراکین اسمبلی کو اٹھایا گیا ہے ان میں سے چند ایک کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کر رہے ہیں یا سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد کیسے گھروں کے اندر داخل ہو کر اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔ بی بی سی آزادنہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا ہے، تاہم ان میں سے کچھ ویڈیوز خیبرپختونخوا اسمبلی کی کارروائی کے دوران اسمبلی ہاؤس میں بھی نشر کی گئیں۔

    اس نوعیت کی کارروائیوں کا آغاز پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے آغاز سے قبل ہوا تھا اور پشاور سمیت مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف یہ کارروائیاں شروع کی گئی تھیں۔

    ان میں اب تک نامعلوم افراد کی جانب سے اٹھائے گئے ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کی تعداد 10 ہے جن میں سات ممبران صوبائی اسمبلی اور تین ممبران قومی اسمبلی شامل ہیں۔

    جواب دیں

    آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے