’’آتا نہیں ہے فن کوئی اُستاد کے بغیر‘‘

اسلام آباداوورسیزپاکستان

تحریر : یاسرچغتائی

عالمی ایام کی ایک جامع فہرست بنا کر اقوام کے سامنے رکھنے والی اقوام متحدہ کی خیر ہو جس نے خیر بانٹنے والوں کا بھی دن منانے کا عزم کیا۔ علم خیر ہے اور استاد سراپا خیر۔ اس دھرتی پر ارب ہا انسان بخیر جی رہے ہیں تو اس خیر کا عنواں، سبب، پس منظر، پیش منظر استاد ہی تو ہے۔ کوئی شخص سیکھے بغیر کامیابی کا تصور کر سکتا ہے ؟ نہیں نا ! تو پھر استاد کو استاد مانو، اسے ہر لحظہ سلام کرو، اپنے من کو چشم بنالو اور مرشد کو دیکھ دیکھ نہ رجو۔ اقوام متحدہ کا کہ اس کے ذیلی ادارے یونیسکو نے 1994میں ٹھانا کہ اساتذہ کا دن بھی منانا چاہئے۔

یوم اساتذہ کے حوالے سے خصوصی تحریر

اس کیلئے 5 اکتوبر کا انتخاب ہوا۔ پاکستان میں اس دن کو مقبولیت تب ملی جب سلام ٹیچرز سے ایک عمدہ عنوان ٹھہرا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ مادہ پرستی نے پورے معاشرے کی طرح اساتذہ کو بھی متاثر کیا۔ مشن، جذبہ، کار خیر کچھ کچھ گرد آلود ہوا۔ استاد شاگرد کا روحانی رشتہ کمزور ہوکے آجر اور اجیر کے پھیکے اور بے رنگ ربط میں ڈھل گیا۔ چلو اب سلام ٹیچرز ڈے پر ہی سہی، اساتذہ کو سلام کرنے کا کم از کم ایک دن تو میسر ہوا۔
یہ حقیقت ہے کہ زندگی کی افراتفری کے باعث ہر شعبہ زندگی متاثر ہوا ہے مگر تعلیم کچھ زیادہ ہی انحطاط پذیر ہو گئی۔ اس تناظر میں اس سال کیلئے یونیسکو نے ورلڈ ٹیچرز ڈے کا تھیم رکھاہے ’’استاد ہی اصل جادو گر ہے”۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اساتذہ کے دن پر سیمینار اور تقریبات کے ذریعے معماران قوم کو سلامِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کی اہمیت و افادیت اور ہر سطح پر ان کے بنیادی کردار کواجاگر کیاجاتاہے۔
یہ دور میڈیا کا دور ہے جس نے کچھ برسوں سے ٹیچرز ڈے کو ہائی لائٹ کیا ہے اور اساتذہ کو درپیش مشکلات ومسائل بالخصوص مناسب رہائش، ٹرانسپورٹیشن، پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ اور تعلم کے جدید طریقے اپنانے کے معاملے میں اساتذہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔
دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر
مشہورمقولہ ہے کہ استاد وہ مینارہ نور ہے جو بچے کے راستے کو روشن کرتا ہے۔ سکندر اعظم کہتا تھا میرے والدین نے مجھے زمین پر اتارا اور استاد نے آسمان کی بلندی تک پہنچا دیا۔ آج آپ دنیا میں کوئی بھی کامیاب انسان دیکھتے ہیں تو اس کامیاب انسان کے پیچھے ایک استاد ہوتا ہے جس نے اپنے شاگرد کو کامیابی کا رستہ دکھایا ہوتاہے۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدان عبدالسلام نے نوبل انعام کو اپنے استاد کے قدموں میں رکھ کر کہا تھا "کلاس روم میں اگر آپ نے میری ہمت افزائی کے طور پر ایک روپیہ نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حقدار نہ بنتا، میری نظر میں نوبل انعام کی اہمیت آپ کے ایک روپے سے کم ہے”ارسطو کا کہنا تھا کہ جو لوگ بچوں کو اچھی تعلیم دیتے ہیں ان کی عزت کرو۔ ماں باپ تمہیں پیدا کرتے ہیں لیکن استاد تمہیں اچھی زندگی گزارنے کا فن سکھاتے ہیں۔
مغربی ممالک اور پاکستان کے حکمرانوں میں اس دن کی اہمیت اور افادیت مختلف ہے۔ مغربی اقوام نے واقعی اساتذہ کو معاشرے میں ایک باعزت اور منفرد مقام دے رکھا ہے۔ اُدھر ہر طبقہ اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ اساتذہ کو عزت و وقار اور عظمت کا مقام دیتے ہیں جبکہ پاکستان میں اسے ایک کم اہم پیشے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مغرب میں اساتذہ کی تمام ضروریات زندگی کو پورا کرنا حکمرانوں کی اولین ڈیوٹی ہوتی ہے۔ وہ لوگ اساتذہ کو ذہنی سکون اور اطمینان قلب سے قوم کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کیلئے تمام روزمرہ زندگی کی آسائشوں اور مراعات مہیا کرنے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھتے جبکہ ہمارے ہاں ایسی ایسی سکیمیں بنائی اور اپنائی جاتی ہیں جن سے اساتذہ کا نام اور مقام معتبر نہیں بنتا۔
مغربی معاشرے میں کوئی استاد عدالت پہنچے تو معلوم ہونے پر جج اس کے احترام میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ مغربی ممالک اپنی ملکی زبان کو حصول تعلیم کا ذریعہ بناتے ہیں ۔ہم ابھی تک ردو اور انگریزی کے چکروں میں پڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کا شعبہ زبردست بدحالی کا شکار ہے۔ 5 اکتوبر کو سلام ٹیچر ڈے کے موقع پرمغربی ممالک کے حکمران اساتذہ کو بن مانگے اور بغیر کسی مطالبہ کے مزید خوشخبریاں دیتے ہیں ۔ ایسے حالات اور واقعات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مغربی ممالک اور ہمارے ملک میں استاد کی تکریم و تحریم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنے لیے جس شعبے کو مثالی جانا اور اس پر فخر بھی کیا وہ ہے معلم، آپﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ انبیاء نے اپنی امتوں کی بطور معلم رہنمائی کی ہے اور تعلیم و تربیت سے مزین کیا۔ آپؐ نے بھی بطور معلم امت کا تزکیہ نفس فرمایا۔ علم و حکمت کی تعلیم دی اور وہ تمام باتیں سکھائی ہیں جو امت نہیں جانتی تھی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ استاد کسی بھی قوم کا معمار ہوتا ہے۔

اس میں بھی کوئی تخصیص نہیں کہ وہ کہاں کہاں قوم کی تعمیر کرتا ہے اور کن کن علوم و فنون میں تعمیر کرتا ہے۔مغرب علمی اور سائنسی دنیا میں اگر پوری دنیا پر حکمرانی کررہا ہے تو استاد ہی کی مرہون منت ہے۔ ہمیں دل پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کون سا شعبہ ہے جس میں مغرب ہم پر حکومت نہیں کررہا۔ مصنوعات سے لے کر نظام حکومت تک اور تہذیب و تمدن اور کلچر سے لے کر تعلیم و تحقیق تک، غرض ہرفیلڈ میں وہ غالب ہے۔مغربی دنیا میں آج بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں جگہ خالی نہ بھی ہو تو استاد کے لیے گنجائش نکالی جاتی ہے۔مغربی عدالتوں میں کسی بھی شخص سے زیادہ استاد کی گواہی معتبر سمجھی جاتی ہے۔ امریکہ میں ہزار خامیاں ہوں گی مگر وہاں آج بھی کسی طالب علم کو نمایاں کامیابی ملے تووہ اولین فرصت میں اپنے استاد کو ایسے سیلوٹ کرتا ہے جیسے ہمارے ہاں ایک سپاہی اپنے اعلی آفیسر کو سیلوٹ کرتا ہے۔جنگ عظیم دوم میں دونوں متحارب گروپوں نے باقاعدہ معاہدہ کیا تھا کہ علمی دانش گاہوں پر کسی صورت حملہ نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ان میں پناہ لینے والوں کو کچھ کہا جائے گا۔
ہمارے ہاں ان ڈاکٹرز اور آفیسرز کو معتبر سمجھا جاتا ہے جنہوں نے باہر کسی انسٹیٹیوٹ سے کسی بھی قسم کی ٹریننگ لی ہے۔یہی حال تمام شعبہ ہائے زندگی کا ہے۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ دنیا جہاں پر فتح حاصل کرنے والے حکمران بھی استاد کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوتے۔ سکندر اعظم جس نے آدھی دنیا کو زیر نگیں کیا تھا،وہ بھی ارسطوکے سامنے نظریں جھکائے کھڑا رہتا۔حضرت علامہ اقبالؒ نے استاد کی قدر و قیمت اور عزت و اکرام مغرب سے ہی سیکھا تھا، جب انگریز سرکار نے اقبالؒ کی تخلیقات پر انہیں سر کا خطاب دینے کی آفر کی تو اقبال نے منع کیا اور کہا کہ مجھ سے پہلے میرے استاد مولوی میر حسنؒ کو شمس العلماء کا خطاب دیا جائے۔ آج جہاں علم و ہنر کی قدر و قیمت بڑھنی چاہیے تھی اور استاد کا مرتبہ بلند ہونا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔ ایک استاد کو رہنما، دوست اور فلسفی ہونا چاہئے،وہ اپنے طلبہ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین رہنمائی کرے استاد کو چاہیے کہ دوستانہ ماحول میں عقلی اور نقلی دلائل سے اپنے شاگردوں کو مطمئن کریں۔ یعنی ان کی رہنمائی لائل کی روشنی میں دوستانہ ماحول میں کریں۔

استاد کو دور اندیش ہونا چاہیے، طلبہ کی نفسیات کو سمجھنا چاہیے، تعصب، نفرت کینہ اور عداوت سے پاک ہونا چاہیے، وقت کا پابند ہونا چاہیے۔طلبہ کے ساتھ بہترین رویہ اوربرتائوکرنا، صبر و تحمل سے بات سننا، سنجیدگی سے سوالات کا جواب دینا،احکامات شریعت کی پابندی کرنا، اپنے موضوع و مضمون میں ماہر ہونا، پڑھانا اور سکھانا،ذمہ داری کا احساس کرنا،تضیع وقت سے بچنا،علمی و قلمی غلطیوں پر اصرار کی بجائے رجوع کرنا،طلبہ کے ذوق اور ذہنی سطح کا اندازہ لگاکر اپنے پڑھانے اور سکھانے کی تکنیک میں تبدیلی لانا ایک مثالی اور کامیاب استاد کی علامت ہے۔ اپنی ذاتی پریشانیوں کو طلبہ سے شیئر کرنا بھی مناسب نہیں۔اپنی وضع قطع کا خیال رکھنا بھی آج کے زمانے میں اہم سمجھا جاتا ہے تو ان تمام باتوں کا خیال رکھا جائے تو آج بھی استاد اپنا کماحقہ مقام پا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بعض اساتذہ کو بھی اپنے فرائض اور ذمہ اریوں کا احساس نہیں۔وہ بھی تعلیم و تعلم کی بجائے ذاتی مفادات کو اپنا اہداف جانتے ہے۔
دوسری جانب معاشرتی بے اعتنائی اور حکومتی پالیسیوں پہ بھی توجہ درکار ہے۔استاد کا مرتبہ و مقام گھٹا کررکھ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے استاد بھی کنفیوژن کا شکار ہے۔ایمانداری سے بتایا جائے کہ جہاں استاد کنفیوژن کا شکار ہو، کیا وہ معاشرہ ترقی کے زینے چڑھ سکتا ہے؟

مثالی اُستادکیسا ہو؟
ایک استاد متعدد خوبیوں اور مہارتوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو طلبہ کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ عظیم اساتذہ درس و تدریس کے لیے ساز گار ماحول تشکیل دیتے ہیں، طلبہ کو مختلف انداز سے سکھانے کے لیے نِت نئے تجربات ، ٹیکنالوجی کو با معنی انداز میں استعمال کرتے ہیں اور طلبہ کے بہترین مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مہارت کے درجے تک پہنچانے کے لیے ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ایک مثالی استاد میں پائی جانے والی چند خصوصیات کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں۔
جوش وجذبہ
بہترین اساتذہ اپنے متعلقہ مضامین کے ضمن میں خاصے پرجوش ہوتے ہیں۔ یعنی وہ جو مضمون پڑھاتے ہیں، اس کی گہری سمجھ بوجھ اور اس سے قلبی محبّت رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے اسباق کو دِلچسپ اور پر لطف بنانے کے لیے نت نئے طریقے تلاش اور ایجاد کرتے رہتے ہیں۔
صبر و تحمل
کامیاب اساتذہ صابر اور متحمّل مزاج ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ تمام طلبہ کو ایک ہی انداز سے نہیں سکھایا جا سکتا اور وہ ہر طالب علم کی منفرد ضروریات پوری کرنے کے لیے صبروتحمل سے کام لیتے ہیں۔ نیزوہ مختلف سوالات کے جواب دیتے اور تصوّرات کی وضاحت کرتے ہوئے بھی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور طلبہ کے بار بار سوال پوچھنے پر بھی ان سے شفقت سے پیش آتے ہیں۔
اختراعی صلاحیتیں
اچھے اساتذہ تدریسی عمل کو دلچسپ بنانے اور اپنے طلبہ کو مشغول رکھنے کے لیے ہمیشہ اختراعی طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وہ روایتی تدریسی طریقوں سے مطمئن نہیں ہوتے اور تدریس کو موثر بنانے کے لیے ہمہ وقت جدید آلات اورمہارتوں کی جستجو میں رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ خطرات مول لینے اور نِت نئے طریقے آزمانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
ہمدردی کا جذبہ
عظیم اساتذہ جذبہ ہمدردی سے مالا مال ہوتے ہیں اور اپنے طلبہ کی ضروریات اور خدشات کو سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے طلبہ کو سمجھنے کے لیے وقت نکالتے ہیں۔ نیزوہ ایک ساز گار، محفوظ، اور معاون تعلیمی ماحول تشکیل دیتے ہیں، جس میں طلبہ کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی سہولت ملتی ہے۔
مضمون پر گرفت اور تدریسی مہارتیں
معیاری تدریس کے لیے مواد اور تصورات کا علم اور تدریسی مہارتیں ضروری ہیں لیکن صرف یہی خصوصیات کسی استاد کو عظیم نہیں بنا سکتیں۔ گرچہ ایک استاد کو اپنے موضوع کی گہری سوجھ بوجھ ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس مواد کو اپنے طلبہ کے لیے قابلِ رسائی اور متعلقہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
اپنا جائزہ
اچھے اساتذہ ہمیشہ اپنی کارکردگی، تدریسی مہارتوں، سیکھنے کے عمل، رویوں، تاثیر، کامیابیوں اور علم کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو بہتر سے بہترین بناتے رہیں۔ مسائل کے باوجود اپنے مقصد پر قائم رہتے ہیں اور اپنے طلبہ سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے