دمہ کے مریضوں کیلئے گیس کی جگہ الیکٹرک چولہا مفید

صحتہوم

گھر میں گیس کا چولہا آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے دمہ کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ امریکا کی کیس ویسٹرن ریورس یونیورسٹی کی ایک طبی تحقیق کے مطابق گیس کے چولہے قدرتی گیس سے جلتے ہیں، جس کے نتیجے میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی خطرناک گیسیں فضا میں خارج ہوتی ہیں۔ طویل المیعاد بنیادوں پر یہ آلودگی پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور نظامِ تنفس کے امراض کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

اس تحقیق میں شدید دمہ کا شکار 85 افراد اور بچوں کی صحت کا 4 ہفتوں تک جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ان کے گھروں کے گیس کے چولہے مفت میں بجلی کے چولہوں سے تبدیل کر دیے گئے۔ آئندہ 2 سے 3 ماہ کے مشاہدے اور گھر کے اندرونی فضائی معیار کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ الیکٹرک چولہے اپنانے سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 70 فیصد کمی آئی۔ اس تبدیلی سے مریضوں کی علامات میں دوائیوں کے برابر یا اس سے بھی بہتر سدھار دیکھا گیا، جب کہ بیماری کی وجہ سے غیر حاضری میں 80 فیصد اور ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت میں 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق گیس کے چولہوں کو بجلی کے چولہوں سے بدلنا دمہ کے مریضوں کے لیے ایک انتہائی موثر حل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ تسلیم بھی کیا کہ فی الوقت اس تحقیق کے نتائج محدود ہیں، کیونکہ اس میں کم افراد کو شامل کیا گیا اور مشاہدے کا دورانیہ بھی چند ماہ پر محیط تھا۔ اس لیے ان نتائج کی مزید حتمی تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے